نوجوانوں کے لیے 60 ہزار روپے ماہانہ وظیفے کا اعلان

نوجوانوں کے لیے 60 ہزار روپے ماہانہ وظیفے کا اعلان

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے کے نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور لائیو اسٹاک کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے 60 کروڑ روپے کی خطیر لاگت سے ایک بڑے انٹرن شپ پروگرام کا آغاز کر دیا ہے۔

پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 1,000 ویٹرنری گریجویٹس اور پیراویٹس کو عملی تربیت اور ماہانہ وظیفہ فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کر سکیں۔

حکومتی اعلامیہ کے مطابق اس انٹرن شپ پروگرام میں شامل ہونے والے ویٹرنری گریجویٹس کو ماہانہ 60,000 روپے وظیفہ دیا جائے گا، جبکہ پیراویٹس کے لیے ماہانہ وظیفے کی رقم 40,000 روپے مقرر کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعلیٰ پنجاب آئی ٹی انٹرن شپ پروگرام کا دوسرا مرحلہ شروع

رواں سال کے لیے مختص کیے گئے کوٹے میں ویٹرنری گریجویٹس کی تعداد 264 اور پیراویٹس کی تعداد 371 رکھی گئی ہے۔ نوجوانوں کی بھرپور دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے درخواستیں جمع کروانے کی آخری تاریخ میں 15 مئی 2026 تک توسیع کر دی گئی ہے۔

خواہشمند امیدوار پنجاب حکومت کے آفیشل جاب پورٹل www.jobs.punjab.gov.pk پر جا کر آن لائن فارم پُر کر کے اپنی درخواستیں جمع کروا سکتے ہیں۔

لائیو اسٹاک اور نوجوانوں کا مستقبل

پنجاب کی معیشت میں لائیو اسٹاک (مویشی پالنا) ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن جدید تکنیکی مہارت کی کمی کی وجہ سے اس شعبے سے وابستہ افراد کو کئی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔

ماضی میں ویٹرنری ڈگری ہولڈرز کو فیلڈ ورک اور عملی تربیت کے مواقع کم میسر تھے، جس کی وجہ سے ڈگری مکمل کرنے کے بعد انہیں ملازمت کے حصول میں دشواری ہوتی تھی۔

مریم نواز کی حکومت کا یہ حالیہ اقدام نہ صرف ان نوجوانوں کو مالی مدد فراہم کرے گا بلکہ انہیں فیلڈ میں براہِ راست کام سیکھنے کا موقع بھی دے گا، جس سے صوبے میں جانوروں کی صحت اور پیداواری صلاحیت میں بہتری آئے گی۔

لائیو اسٹاک سیکٹر میں اس منصوبے کے اثرات

60,000 اور 40,000 روپے کا ماہانہ وظیفہ کسی بھی انٹرن شپ کے لیے ایک بہترین رقم ہے، جو بیروزگار گریجویٹس کو معاشی طور پر مستحکم کرے گا اور ان کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

1,000 نوجوانوں کی تربیت سے صوبے کو ایک ایسی افرادی قوت ملے گی جو جدید طبی آلات اور ویکسینیشن کے طریقوں سے واقف ہوگی۔ یہ تربیت یافتہ نوجوان مستقبل میں اپنا نجی کلینک یا ڈیری فارم بھی بہتر انداز میں چلا سکیں گے۔

درخواستوں کی تاریخ میں 15 مئی 2026 تک توسیع سے ان دور دراز علاقوں کے امیدواروں کو بھی موقع ملے گا جو پہلے اپلائی نہیں کر سکے تھے۔

جب تربیت یافتہ ویٹرنری ماہرین دیہاتوں اور فارمز پر خدمات انجام دیں گے تو اس سے جانوروں کی بیماریوں پر قابو پانے اور دودھ و گوشت کی پیداوار بڑھانے میں مدد ملے گی، جو بالآخر صوبائی معیشت کے لیے سودمند ہے۔

Related Articles