جمعیت علمائے اسلام کے رہنماء حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ حکمرانوں کی عیاشیوں اور بدمستیوں کے باعث پاکستان کے دو ٹکڑے ہوئے ۔
سابق سینیٹر حافظ حمد اللہ نے کہا کہ حمود ال حمٰن کی کمیشن رپورٹ میں سب کچھ واضح ہے ملک توڑنا دہشت گردی اور جس پر ثابت ہوکہ اس نے ملک توڑا ہے تو اس کو مینار پاکستان پر لٹکا یا جائے ، ملک جمہوری ہے نہ اسلامی اور نہ قائد اعظم محمد علی جناح کا پاکستان ہے، ہم اس ملک کو شاعر مشرق علامہ اقبال کے خواب اور قائد اعظم کی کوشش کے بناء ملک بنانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ علماء نے تو ملک کو جوڑ ا اس کو آئین دیا۔ یہ ملک آئی ایم ایف کیلئے نہیں بنا اس کے قانون ایف اے ٹی ایف کے کہنے پر نہیں بلکہ عوامی امنگوں کے تحت بنائے گئے ہیں ۔ اقتدار کی خاطر اپنے عقیدے کا سودا نہیں کریں گے جس وزارت کی وجہ سے عقیدہ ختم نبوت پرکوئی حرف آئے تو اس پر ہم تھوکنا بھی گوارا نہیں کرتے، جو حکمران 77 سال سےاقتدار میں رہے ان کی حکومتیں ہمیشہ سے خائن رہی ہیں۔
جو انگریزوں کے جاسوس رہے آج وہی اس ملک کے حکمران ہیں اور اس ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ میں روکاٹ بھی وہی چاپلوس ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جیکب آباد کی تحصیل ٹھل کے شہر جونگل میں عالمی تحفظ ختم نبوت کی جانب سے ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جے یو آئی کے مرکزی رہنما عبد الرزاق عابد لاکھو، ڈاکٹر اے جی انصاری، مولانا محمد راشد مدنی، مولانا عبد الحفیظ قریشی ،مولانا محمد ناصر ، مولانا سلیم اللہ بروہی و دیگر نے بھی خطاب کیا۔
انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کے عقیدے میں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں جو بھی اس عقیدے پر اختلاف رکھے تو وہ متفقہ طور پر دین اسلام سے خارج ہو جاتا ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ آج بھی مدارس، داڑھی پگڑیوں کا تشخص اور عقیدہ ختم نبوت خطرے میں ہے ان کیلئے جنگ لڑنا دو حقیقت پاکستان کیلئے جنگ لڑنا ہے، حکمران عالمی طاقتوں کے اشاروں پر ہمارے عقائد پر حملہ آور ہیں، مجھے قتل کرنے کی کوشش کی گئی ہماری قیادت پر حملےہوتے ہیں آج تک ایک بھی قاتل نہ پکڑا جا سکا۔