اس سکیم کے تحت صوبے میں بغیر بجلی والے دیہات میں رہنے والے 404 غریب افراد کو ایک کلو واٹ کے ہائبرڈ سولر سسٹم فراہم کیے جا چکے ہیں اور مزید افراد تک اس سہولت کو پہنچانے کے لیے 6 ارب روپے کے اضافی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب اسمبلی، انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور دیگر سرکاری عمارتوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے گا، اور یہ منصوبے جون تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
مزید برآں کوڑے کرکٹ سے بجلی پیدا کرنے کے لیے فنڈز کے قیام کا عمل مارچ تک مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں اپنی چھت اپنا گھرپروگرام کے تحت 62 ارب روپے کی منظوری دی گئی۔ اس پروگرام کے تحت اب تک 5 ہزار شہری قرض حاصل کر چکے ہیںجبکہ 4 ہزار 200 سے زائد مکانات کی تعمیر تیزی سے جاری ہے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مئی تک مزید 40 ہزار افراد کو قرض فراہم کیا جائے گا اور قرض کی حد کو 15 سے 20 لاکھ روپے تک بڑھانے کی تجویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔