لشکر طیبہ کے اہم رکن نعیم امین کے جاں بحق ہونے کی متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں تاہم اس کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوسکی
اطلاعات کے مطابق جاں بحق ہونے والے نعیم امین کے بارے میں سوشل میڈیا اور مختلف ذرائع میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ مبینہ طور پر لشکر طیبہ سے وابستہ تھے اور انہیں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے لوگوں نے تشدد کر کے موت کے گھاٹ اتا را ہے۔
مختلف غیر مصدقہ اطلاعات میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ واقعے میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے لوگ ملوث ہیں کیونکہ عوامی ایکشن کمیٹی کے لوگوں نے اس سے قبل سیکورٹی اہلکاروں کو بھی شہید کیا تھا ۔
یاد رہے کہ اس سے قبل راولا کوٹ میں کشیدگی کے دوران کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان تصادم کے واقعات بھی رپورٹ کیے گئے تھے، جن می سیکورٹی اہلکار شہید کیے گئے ہیں ۔
موجودہ صورتحال میں علاقے میں سکیورٹی کی صورتحال حساس بتائی جا رہی ہے جبکہ پولیس اور دیگر اداروں کی جانب سے تحمل کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے تاکہ صورتحال مزید خراب نہ ہو۔
عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے ریاست مخالف نعرے لگائے جارہے اور پولیس اور سیکورٹی اہلکاروں پر پتھرائو فائرنگ کی جارہی ہے ایسی صورتحال میں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے لوگوں نے نعیم امین کو بھی تشدد کرکے موت کی نیند سلادیا ہے ۔
مختلف ذرائع کے مطابق اس وقت سوشل میڈیا پر متضاد دعوے اور اطلاعات گردش کر رہی ہیں، جن میں کہا جارہا ہے کہ لشکر طیبہ کے کارکن نعیم امین کو عوامی ایکشن کمیٹی کے لوگوں نے ہی موت کے گھاٹ اتارا ہے ، واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔