امریکا سے متعلق عالمی سروے رپورٹ نے تہلکہ مچا دیا

امریکا سے متعلق عالمی سروے رپورٹ نے تہلکہ مچا دیا

دنیا بھر میں امریکا کے عالمی کردار اور پالیسیوں سے متعلق ایک نئی بین الاقوامی سروے رپورٹ نے تہلکہ مچا دیا ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عالمی سطح پر امریکا کا تشخص تیزی سے منفی ہوتا جا رہا ہے اور کئی ممالک کے شہری اب امریکا کو دنیا کیلئے ایک بڑے خطرے کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈنمارک میں قائم الائنس آف ڈیموکریسیز فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری سالانہ جمہوریت سروے میں بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے باعث امریکا کی عالمی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مسلسل دوسرے سال امریکا کے بارے میں عالمی رائے مزید خراب ہوئی ہے اور اب کئی معاملات میں اسے روس سے بھی زیادہ منفی انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔

سروے میں سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق دو برس قبل امریکا کی نیٹ پرفارمنس ریٹنگ مثبت 22 فیصد تھی تاہم اب یہ گر کر منفی 16 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے مقابلے میں روس کی ریٹنگ منفی 11 فیصد جبکہ چین کی ریٹنگ مثبت 7 فیصد ریکارڈ کی گئی جو عالمی رجحانات میں ایک بڑی تبدیلی قرار دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گھر بنانے والوں کیلئے بڑی خوشخبری، اپنا گھر اسکیم مزید آسان۔ سٹینڈنگ کمیٹی کی سفارشات آگئیں

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد سے سوال کیا گیا کہ عالمی امن اور استحکام کیلئے سب سے بڑا خطرہ کون سا ملک بن رہا ہے؟ اس سوال کے جواب میں روس اور اسرائیل کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں نے امریکا کا نام لیا جسے ماہرین امریکی خارجہ پالیسی پر بڑھتے عالمی تحفظات کا واضح اظہار قرار دے رہے ہیں۔

سروے کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی متعدد پالیسیوں نے عالمی سطح پر امریکا کے بارے میں منفی جذبات کو مزید بڑھایا۔ ان میں نیٹو اتحادیوں کے ساتھ کشیدگی  وسیع تجارتی ٹیرف، گرین لینڈ پر کنٹرول سے متعلق بیانات، یوکرین کیلئے امریکی امداد میں کمی اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی شامل ہیں۔

 ماضی میں امریکا کو عالمی جمہوریت، آزادی اور استحکام کی علامت سمجھا جاتا تھا مگر حالیہ برسوں میں عالمی رائے عامہ میں واضح تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ کئی ممالک کے عوام اب امریکا کی پالیسیوں کو عالمی تنازعات معاشی دباؤ اور سفارتی کشیدگی کا سبب سمجھنے لگے ہیں۔

الائنس آف ڈیموکریسیز فاؤنڈیشن کے بانی اور سابق نیٹو سربراہ نے بھی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے عالمی امیج میں اتنی تیزی سے آنے والی گراوٹ افسوسناک ضرور ہے لیکن موجودہ امریکی پالیسیوں کو دیکھتے ہوئے یہ حیران کن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا اب زیادہ متوازن اور ذمہ دار عالمی قیادت کی توقع کر رہی ہے۔

editor

Related Articles