واشنگٹن میں طاقت کا کھیل، سینیٹ میں ایران پر کارروائی سے متعلق اہم قرارداد مسترد

واشنگٹن میں طاقت کا کھیل، سینیٹ میں ایران پر کارروائی سے متعلق اہم قرارداد مسترد

امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں کیلئے کانگریس کی پیشگی اجازت سے متعلق قرارداد مسترد کر دی، جس کے بعد امریکہ میں اختیارات اور جنگی پالیسی پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سینیٹ میں پیش کی گئی قرارداد کو 47 کے مقابلے میں 52 ووٹوں سے مسترد کیا گیا۔ اس قرارداد کا مقصد یہ تھا کہ ایران کے خلاف جاری یا آئندہ کسی بھی فوجی کارروائی کیلئے حکومت کو کانگریس کی پیشگی منظوری لینا لازمی قرار دیا جائے۔

یاد رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کو ایران کے خلاف جاری فوجی آپریشن، جسے “ایپک فیوری” کا نام دیا گیا  کے حوالے سے آئندہ دو ہفتوں میں کانگریس سے منظوری حاصل کرنا درکار تھا۔ بصورت دیگر 29 اپریل تک اس آپریشن کو روکنا ضروری ہو سکتا تھا۔

 یہ بھی پڑھیں :امریکی سینیٹ میں صدر ٹرمپ کی بڑی سیاسی فتح، ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں روکنے کی قرارداد مسترد

امریکی قوانین خصوصاً 1973 کے جنگی اختیارات کے قانون کے تحت صدر کو کسی بھی فوجی کارروائی کو 60 دن سے زیادہ جاری رکھنے کیلئے کانگریس کی منظوری لینا ہوتی ہے۔ اگر منظوری حاصل نہ کی جائے تو کارروائی ختم کرنا لازمی ہو جاتا ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کو اس معاملے میں کانگریس کی منظوری درکار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ قانون ساز کمانڈر انچیف کے اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

جس کا مقصد سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے۔عہدیدار کے مطابق ایسے اقدامات بیرونِ ملک تعینات امریکی افواج کی کارکردگی اور حکمت عملی کو متاثر کر سکتے ہیں، جس سے قومی سلامتی کے معاملات پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *