سیکریٹری گلگت بلتستان اسمبلی نے گورنمنٹ آف گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے تحت اسمبلی کا پہلا افتتاحی اجلاس بلانے کے لیے گورنر گلگت بلتستان کو باقاعدہ سفارشی خط لکھ دیا ہے۔
اس اہم خط میں تجویز دی گئی ہے کہ نومنتخب اراکین پر مشتمل اسمبلی کا پہلا اجلاس اتوار 21 جون کو شام 4 بجے طلب کیا جائے۔ گورنر کی باقاعدہ منظوری کے بعد اس حوالے سے گزٹ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا جائے گا، جس کے بعد خطے میں نئے پارلیمانی سفر کا باقاعدہ آغاز ہو جائے گا۔
سیشن ہال جوٹیال میں حلف برداری کی تقریب
یہ تاریخی اجلاس صوبائی دارالحکومت گلگت کے خوبصورت علاقے جوٹیال میں واقع اسمبلی سیشن ہال میں منعقد ہوگا۔ اجلاس کی صدارت کے لیے نامزد پریذائیڈنگ آفیسر نئے منتخب ہونے والے تمام اراکینِ اسمبلی سے ان کے عہدے کا حلف لیں گے۔
حلف برداری کی اس پروقار تقریب میں شرکت کے لیے تمام نومنتخب اراکین، ممتاز سیاسی رہنماؤں اور اعلیٰ انتظامی اَفسران کو دعوت نامے جاری کیے جا رہے ہیں اور سیشن ہال کے گردونواح میں سکیورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا اہم انتخاب
اراکین کی حلف برداری کے فوراً بعد پہلے ہی اجلاس کے ایجنڈے میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب شامل کیا گیا ہے۔ نئے اراکینِ اسمبلی خفیہ رائے دہی کے ذریعے ایوان کے نئے کسٹوڈین یعنی سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب کریں گے۔
اس اہم ترین مرحلے سے قبل چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان نے عام انتخابات میں کامیاب ہونے والے تمام امیدواروں کا باقاعدہ سرکاری نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے بعد اب نئی حکومت اور صوبائی کابینہ کی تشکیل کی راہ پوری طرح ہموار ہو گئی ہے۔
مقررہ پارلیمانی امور کی تکمیل کے بعد پریذائیڈنگ آفیسر اجلاس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کے مجاز ہوں گے۔
گلگت بلتستان کا سیاسی منظرنامہ
گلگت بلتستان میں حالیہ عام انتخابات کے معرکے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ نئی اسمبلی اپنے آئینی سفر کا آغاز کر رہی ہے۔
‘گورنمنٹ آف گلگت بلتستان آرڈر 2018’ کے تحت اس خطے کو انتظامی، مالیاتی اور قانون سازی کے وسیع تر اختیارات دیے گئے ہیں، جس کے تحت گورنر اور وزیرِ اعلیٰ کا موجودہ انتظامی ڈھانچہ کام کرتا ہے۔
ماضی میں گلگت بلتستان کی سیاست عام طور پر وفاق میں برسرِ اقتدار جماعت کے تابع رہی ہے، تاہم حالیہ برسوں میں مقامی سطح پر سیاسی شعور، جماعتوں کے مابین سخت مقابلے اور خطے کی خودمختاری کے مطالبات میں تیزی آئی ہے۔
کامیاب امیدواروں کی نوٹیفیکیشن کے بعد اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ کون سا سیاسی اتحاد حکومت بنانے میں کامیاب ہوتا ہے۔
پہلا سیاسی معرکہ
حلف برداری کے فوراً بعد اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب یہ واضح کر دے گا کہ ایوان میں کس سیاسی جماعت یا اتحاد کو حقیقی اکثریت حاصل ہے۔ یہ انتخاب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پہلا بڑا سیاسی دنگل ثابت ہوگا۔
آرڈر 2018 اور قانون سازی کے چیلنجز
نئی اسمبلی کو گورنمنٹ آف گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے تحت کام کرنا ہے، جس میں مقامی وسائل، سیاحت، ماحولیات اور ٹیکسیشن جیسے اہم امور پر نئی قانون سازی کی اشد ضرورت ہے۔ نئے اراکین کے لیے خطے کے عوام کی امیدوں پر پورا اترنا اور انہیں دیگر صوبوں کی طرح مکمل آئینی حقوق دلوانا سب سے بڑا چیلنج رہے گا۔
جغرافیائی اور معاشی اہمیت
گلگت بلتستان کی جغرافیائی حیثیت انتہائی حساس ہے کیونکہ یہ’سی پیک‘ یعنی چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کا گیٹ وے ہے۔ نئی اسمبلی کی تشکیل سے خطے میں جاری بین الاقوامی ترقیاتی منصوبوں کو قانونی تحفظ ملے گا اور خاص طور پر مقامی سیاحت کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے نئی پالیسیوں کی توقع کی جا رہی ہے۔