گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے لیے ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں اہم مشاورتی ملاقات، پاور شیئرنگ فارمولا طے، بریک تھرو کی توقع

گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے لیے ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں اہم مشاورتی ملاقات، پاور شیئرنگ فارمولا طے، بریک تھرو کی توقع

گلگت بلتستان میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی جوڑ توڑ عروج پر پہنچ گیا ہے، جہاں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اعلیٰ سطحی وفود کے درمیان ایک انتہائی اہم اور طویل مشاورتی ملاقات منعقد ہوئی ہے۔

اس بیٹھک کے بعد صوبائی سیاسی منظر نامے پر ایک بڑے اسٹرٹیجک ’بریک تھرو‘ (سیاسی پیش رفت) کی قوی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق گلگت میں ہونے والی اس ملاقات میں دونوں بڑی جماعتوں نے حکومت سازی کے لیے مختلف ممکنہ پاور شیئرنگ فارمولوں، مستقبل کے سیاسی تعاون اور خطے کے انتظامی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:رانا ثناء اللہ نے گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے حوالے سے بڑا دعوی کر دیا

ملاقات میں دونوں جماعتوں کی مرکزی اور مقامی قیادت نے صفِ اول میں رہ کر مذاکرات کیے۔ پیپلز پارٹی کے وفد کی قیادت پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیئر حسین بخاری، سابق وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ، صوبائی وزرا شرجیل انعام میمن، ناصر حسین شاہ اور صدر پی پی پی گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ نے کی۔

دوسری جانب، مسلم لیگ (ن) کی نمائندگی وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران انجینیئر امیر مقام اور صدر ن لیگ گلگت بلتستان و سابق وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے کی۔

ملاقات میں گلگت بلتستان کی گورننس، کابینہ کی تشکیل اور اہم آئینی عہدوں کی تقسیم سمیت مختلف ملکی و قومی امور پر کھل کر تجاویز کا تبادلہ کیا گیا اور یہ طے پایا کہ ان تمام روابط اور فارمولوں کو حتمی منظوری کے لیے دونوں جماعتوں کی مرکزی قیادت (آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری اور نواز شریف، شہباز شریف) کے سامنے رکھا جائے گا۔

مذاکرات کے دوران پیپلز پارٹی کے وفد نے اپنا اصولی مؤقف برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے حالیہ سیاسی منظر نامے میں عوام نے پی پی پی کو سب سے بڑی جماعت بنا کر خطے کی قیادت کا واضح مینڈیٹ دیا ہے، اس لیے وزارتِ اعلیٰ پر ان کا بنیادی حق بنتا ہے۔

تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت سازی کے تمام فیصلے جمہوری اصولوں، وسیع تر سیاسی مشاورت اور عوامی مفادات کو مدِنظر رکھتے ہوئے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کیے جائیں گے۔

گلگت بلتستان کی سیاست کا ایک تاریخی خاصہ یہ رہا ہے کہ وہاں عام طور پر اسی جماعت کی حکومت بنتی ہے جو اسلام آباد (وفاق) میں برسرِ اقتدار ہوتی ہے، کیونکہ خطہ اپنی مالیاتی ضروریات اور سالانہ ترقیاتی بجٹ کے لیے مکمل طور پر وفاقی گرانٹس پر انحصار کرتا ہے۔

موجودہ وفاقی سیٹ اپ میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی پہلے ہی ایک مرکز-صوبائی اتحاد کا حصہ ہیں، لیکن گلگت بلتستان اسمبلی میں دونوں جماعتوں کے درمیان مقامی سطح پر شدید سیاسی مسابقت رہی ہے۔

ماضی میں گلگت بلتستان کو وفاقی اکائی بنانے اور اسے آئینی حقوق دینے کے معاملے پر دونوں جماعتوں کے وژنز میں فرق رہا ہے۔

پیپلز پارٹی نے ہمیشہ خطے کو بااختیار بنانے کے لیے صدارتی احکامات (جیسے 2009 کا امپاورمنٹ آرڈر) کا سہارا لیا، جبکہ ن لیگ کے دور میں حافظ حفیظ الرحمٰن کی وزارتِ اعلیٰ کے دوران انتظامی و مالیاتی اصلاحات پر زور دیا گیا۔

حالیہ سیاسی عدم استحکام اور سابقہ حکومتوں کے خاتمے کے بعد، خطے کو ایک مستحکم حکومت کی ضرورت ہے تاکہ سیاحت، گندم کی سبسڈی کے مسائل اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت جاری بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو آگے بڑھایا جا سکے، جس کے لیے دونوں جماعتوں کا اتحاد ناگزیر بن چکا ہے۔

وفود کی ہیوی ویٹ لائن اپ اور اہمیت

پیپلز پارٹی کی جانب سے نیئر حسین بخاری، قمر زمان کائرہ، اور سندھ کے بااثر وزراء شرجیل میمن و ناصر شاہ کی گلگت آمد یہ ظاہر کرتی ہے کہ بلاول بھٹو زرداری اس خطے میں حکومت بنانے کو کتنی اہمیت دے رہے ہیں۔

دوسری طرف ن لیگ کی جانب سے وفاقی وزیر امیر مقام (جو وفاق میں گلگت بلتستان کے انچارج ہیں) کی موجودگی یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ مذاکرات محض مقامی نوعیت کے نہیں ہیں، بلکہ اس کی ڈوریاں براہِ راست اسلام آباد سے ہلائی جا رہی ہیں۔

پیپلز پارٹی کا مینڈیٹ اور ‘وزارتِ اعلیٰ’ کا کلیم

پی پی پی کا یہ کہنا کہ وہ ’سب سے بڑی جماعت‘ بن کر ابھری ہے، مذاکرات میں ان کے پوزیشن کو مضبوط کرتا ہے۔ اس بنیاد پر جو فارمولا طے پانے کی امید ہے، اس کے تحت وزیراعلیٰ کا عہدہ پیپلز پارٹی کو مل سکتا ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کو اسپیکر، سینئر وزارتیں یا گلگت بلتستان کونسل میں اہم حصہ دے کر مطمئن کیا جائے گا، بالکل اسی طرح جیسے وفاق میں پاور شیئرنگ کا ماڈل چل رہا ہے۔

مرکزی قیادت کو ریفر کرنے کی حکمتِ عملی

دونوں وفود کا تجاویز کو مرکزی قیادت کے سامنے رکھنے کا فیصلہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مقامی قیادت خود کوئی بڑا فیصلہ کرنے کی مجاز نہیں ہے یا وہ کسی ممکنہ سیاسی ڈیڈ لاک سے بچنا چاہتے ہیں۔

چونکہ وفاق اور پنجاب میں ن لیگ مضبوط ہے اور سندھ و بلوچستان میں پی پی پی، اس لیے گلگت بلتستان کا فیصلہ ایک بڑے ‘میکرو پولیٹیکل پیکج’ کا حصہ ہوگا، جہاں ایک عہدے کے بدلے دوسرے خطے میں سیاسی رعایت لی جا سکتی ہے۔

Related Articles