سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو آگاہ کیا گیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) پاکستان میں کیو آر کوڈ پر مبنی ادائیگی کے نظام کے نفاذ میں ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر سامنے آیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کو گزشتہ روز آگاہ کیا گیا ہے کہ ایف بی آر پاکستان میں کیو آر کوڈ پر مبنی ادائیگی کے نظام کو اپنانے میں اہم رکاوٹ ہے۔ پاکستان QR کوڈ ٹیکنالوجی کو اپنانے میں دنیا بھر میں بدترین ممالک میں سے ایک ہے کیونکہ تاجر FBR کے ٹیکس سے متعلق پیچیدگیوں کی وجہ سے سسٹم کو مربوط کرنے سے گریزاں ہیں۔
سینیٹ کمیٹی کے سامنے انکشاف کیا کہ ایف بی آر تاجروں کو نوٹس بھیجتا ہے جب وہ کیو آر کوڈ پیمنٹ سسٹم لگاتے ہیں جس سے انہیں خوف پیدا ہوتا ہے۔ سہولت پر ٹیکس لگانے کے حوالے سے تاجروں کو آن بورڈ کرنے، فارم مکمل کرنے، اور بینک اکاؤنٹس کھولنے میں رکاوٹیں پیدا کی گئی ہیں جس سے QR کوڈ پر مبنی ادائیگی کے نظام کو مکمل طور پر اپنانے کے حوالے سے عوامل کو نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ادائیگی کے لین دین کو آسان بنانے کے لیے ہر تاجر کے ساتھ QR کوڈ سسٹم نصب کیا جانا چاہیے۔ فنانس کمیٹی نے وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان مسائل کے حل کے لیے کیے گئے اقدامات پر 6 ماہ میں پیش رفت رپورٹ پیش کریں۔
ایک اور نوٹ پر، ڈپٹی گورنر نے واضح کیا کہ مرکزی بینک الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ری فنانسنگ اسکیمیں متعارف نہیں کرے گا کیونکہ پروگرام صرف ایکسپورٹ امپورٹ (ایگزم) بینک کے ذریعے شروع کیے جاسکتے ہیں۔