کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے کیپیٹل ایمرجنسی سروس (فائر اینڈ ریسکیو) نے اسلام آباد میں بڑے آتشزدگی کے واقعات کے دوران ہجوم پر قابو پانے اور ریسکیو کارروائیوں کو مؤثر بنانے کے لیے اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس سے خصوصی تعاون کی درخواست کر دی ہے۔
اس حوالے سے 25 جون 2026 کو ایڈیشنل ڈائریکٹر کیپیٹل ایمرجنسی سروس عماد الدین محمد کی جانب سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل)، سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (آپریشنز) اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ٹریفک) کو باضابطہ مراسلہ ارسال کیا گیا ہے۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں ایچ-9 مرکنٹائل بازار میں لگنے والی بڑی آگ کے دوران جائے وقوعہ پر شہریوں اور دکانداروں کا غیر معمولی ہجوم جمع ہوگیا جس کے باعث فائر بریگیڈ ریسکیو ٹیموں اور ایمبولینسز کی آمدورفت اور امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آئیں۔
مراسلے کے مطابق ہجوم کی وجہ سے فائر فائٹرز کے لیے پانی کی ہوز لائنیں بچھانے ایمرجنسی گاڑیوں کی نقل و حرکت متاثرہ افراد کے انخلا اور آگ بجھانے کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہوئی جس سے جانی و مالی نقصان میں اضافے کا خطرہ بڑھ گیا۔
سی ڈی اے نے سفارش کی ہے کہ آئندہ ایسے تمام بڑے آتشزدگی کے واقعات میں جائے وقوعہ کے گرد اندرونی اور بیرونی سیکیورٹی حصار (سیکیورٹی کورڈن) قائم کیا جائے فائر بریگیڈ ریسکیو گاڑیوں اور ایمبولینسز کے لیے راستے ہر صورت کھلے رکھے جائیں غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی عائد کی جائے متاثرہ افراد کے بروقت انخلا کو یقینی بنایا جائے اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کر کے ہجوم کو کنٹرول کیا جائے۔
مراسلے میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ ایچ-9 آتشزدگی کے دوران بعض افراد نے فائر اینڈ ریسکیو اہلکاروں سے بدتمیزی کی ایمرجنسی گاڑیوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالی اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو نقصان پہنچانے کی بھی کوشش کی جس سے امدادی کارروائیاں شدید متاثر ہوئیں اور ریسکیو اہلکاروں کی جانوں کو بھی خطرات لاحق ہوئے۔
سی ڈی اے نے اسلام آباد پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ مستقبل میں ہر بڑے آتشزدگی کے واقعے پر فوری طور پر مناسب نفری تعینات کی جائے تاکہ ہجوم پر قابو پایا جا سکے ایمرجنسی آپریشنز بلا رکاوٹ جاری رہیں اور قیمتی جانوں و املاک کو زیادہ مؤثر انداز میں محفوظ بنایا جا سکے۔
مراسلے میں اس امید کا اظہار بھی کیا گیا ہے کہ انتظامیہ پولیس اور ریسکیو اداروں کے درمیان بہتر رابطہ اور مؤثر تعاون سے آئندہ ہنگامی صورتحال میں امدادی کارروائیاں مزید تیز، محفوظ اور مؤثر بنائی جا سکیں گی۔