سربراہ جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان سے تعلقات پر پاکستان تحریک انصاف میں اختلافات سامنے آگئے ہیں اور جے یو آئی سے تعلقات کے حوالے سے پی ٹی آئی دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق جمعیت علمائےاسلام سے تعلقات پر بھی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) دو گروپوں میں تقسیم ہوگئی، میڈیا رپورٹس کے مطابق علی امین گنڈاپور اور ان کے ہم خیال رہنما فضل الرحمان سے ملاقات کےمخالف ہیں۔
میڈیا رپورٹس کا کہنا تھا کہ اسد قیصر اور عمرایوب جے یو آئی سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں سے بہتر تعلقات کے حامی ہیں۔ دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق علی امین گروپ کا دعویٰ ہے کہ مولاناسےحالیہ ملاقات بانی پی ٹی آئی کی مرضی کے بغیر ہوئی، جےیوآئی نے26ویں ترمیم پاس کروا کر حکومت کو سہارا دیا۔
دوسرے گروپ کا کہنا ہے بانی پی ٹی آئی نےتمام اپوزیشن جماعتوں سےرابطوں کا کہاہے۔ یاد رہے پی ٹی آئی وفد نے مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی، جس میں پی ٹی آئی نے جے یو آئی کو حکومت مخالف اپوزیشن گرینڈ الائنس میں شمولیت کی دعوت دی تھی۔
جے یو آئی (ف) اور پی ٹی آئی کے درمیان ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی تھی، جس کے ممبران سینیٹر کامران مرتضی اور اسد قیصر ہوں گے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمر ایوب کا کہنا تھا کہ حکومت نے وعدہ کیا تھا بانی چیئرمین سے ملاقات کروائیں گے، انہوں نے ’’اَن مانیٹرنڈ‘‘ ماحول میں ملاقات نہیں کروائی، صاحبزادہ حامد رضا کی رہائش