خیبرپختونخوا محکمہ ٹرانسپورٹ میں بڑے پیمانے پر جعلی ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا اور بد انتظامی کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق 10 سے 15 ہزار روپے لیکر جعلی لائسنس جاری کیا جاتا ہے۔ متعدد ایسی شکایات بھی ملی ہے جس میں کم عمر لڑکوں کو لائسنس جاری کیا گیا ہے۔ ایسے افراد کو بھی لائسنس جاری کرنے کا انکشاف ہوا ہے جو پاکستان میں موجود ہی نہیں ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کے چند اہلکاروں کی ملی بھگت سے ایک ایجنٹ پیسے لیکر جعلی لائسنس بنواتا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے سیکرٹری ٹرانسپورٹ کو ایک خط بھی لکھا ہے جس میں تمام بدانتظامی اور مسائل کا ذکر کیا گیا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ڈرائیونگ لائسنس کی چھپائی میں استعمال ہونے والے کارڈز غیر معیاری ہے نہ صرف یہ بلکہ ڈرائیونگ لائسنس پر جاری کی جانے والی درخواست گزار کی تصاویر دیکھنے کے قابل نہیں۔ جن خصوصیات کے حامل کارڈز کی منظوری حکومت نے دی ہے وہ کارڈ نہیں چھاپے جارہے ہیں۔
معیاری پرنٹنگ مشینوں کو غیر معیاری کارڈز کی وجہ سے نقصان ہوسکتا ہے۔ خط کے مطابق کچھ کارڈ پرانے ڈائریکٹر کے دستخط سے جاری کئے جارہے ہیں۔ ڈپٹی ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ نے خط میں لکھا ہے کہ ماہرین کی موجودگی کے باوجود غیر متعلقہ اہلکار آئی ٹی سسٹم چلا رہے ہیں۔ دوسری جانب ڈپٹی ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ کے خط کی روشنی میں چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے بھی نوٹس لے لیا ہے اور 2 رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی۔ کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ 30 دنوں کے اندر جامع رپورٹ مرتب کر کے پیش کیا جائے۔ اس سلسلے میں جب سیکرٹری ٹرانسپورٹ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے آزاد ڈیجیٹل کو بتایا کہ لائسنس اجرا میں بدانتظامی کی شکایت ملی ہے۔
جس پر چیف سیکرٹری نے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ سیکرٹری ٹرانسپورٹ مسعود یونس کے مطابق تحقیقات ٹیم کی رپورٹ کے بعد تمام حقائق سامنے آئیں گے اور پھر دیکھا جائے گا۔ ان کے مطابق کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جائے گی اور قصور واروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ ان کے مطابق محکمہ ٹرانسپورٹ میں کسی قسم کی بدانتظامی اور بدعنوانی کی گنجائش نہیں۔