مری، گلیات اور لیپہ وادیوں کے شاندار پہاڑی مقامات ہفتے کے آخر میں حالیہ برفباری کے بعد موسم سرما کے حیرت انگیز سرزمین میں تبدیل ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق موسمِ سرما کی حالیہ برفباری کے بعد برف کی ایک موٹی چادر نے اس علاقے کو ڈھانپ لیا ہے، جو سیاحوں کو ایک سمندری لہر کی طرح سے اپنی جانب مجذوب کررہی ہیں اور ملک کے طول وعرض سے سیاح فطرت کے منجمد شاہکار کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے کے لیے اس علاقے میں امڈ آئے ہیں۔
مختلف علاقوں میں 4 سے 5 انچ تک ہونے والی برف باری نے مشہور سیاحتی مقامات کو ایک دلفریب مقام میں تبدیل کر دیا جہاں برف سے ڈھکے درخت، سڑکیں اور عمارتیں دلکش منظر پیش کر رہی تھیں۔
حالیہ برفباری سے مری اور گلیات میں مناظر میں دلکش تبدیلی نے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ کیا۔ مری کے ایک مشہور ریسٹورنٹ کے مالک نے اس بات کی گواہی دیتے ہوئے کہا، “ہمارے پاس اس ہفتے کے آخر میں گاہکوں کا بے مثال رش رہا اور ہماری فروخت آسمان کو چھونے لگی۔”
نتھیا گلی میں ایک اور ریسٹورنٹ کے مالک راشد نے کہا کہ “برفباری ہمارے لیے ایک نعمت ہے کیونکہ اس نے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد کو یہاں لایا ہے جو ہمارے مقامی کھانوں کو آزمانے کے خواہشمند ہیں۔” لیپا ویلی میں ایک سٹور کے مالک نے کہا، “ہمارا ریسٹورنٹ جمعہ کی شام سے بھرا ہوا ہے، اور ہم مانگ کو پورا کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔”
مری مال روڈ کے ایک تاجر نے کہا، “ہفتے کے آخر میں رش ناقابل یقین تھا، اور ہم مری اور گلیات کی خوبصورتی سے بہت سارے سیاحوں کو لطف اندوز ہوتے دیکھ کر بہت خوش ہیں۔” تاہم شدید برف باری سے معمولات زندگی درہم برہم ہو گئے، برف جمع ہونے سے کئی سڑکیں گزرنے کے قابل نہیں ہو گئیں۔ سیاحوں اور مقامی لوگوں کو درپیش مسائل کو کم کرنے کے لیے گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) حرکت میں آگئی، ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانے اور زائرین کو ضروری سہولیات فراہم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے گئے۔
جی ڈی اے کے ایک اہلکار نے کہا، “ہم نے سڑکوں سے برف ہٹانے کے لیے بھاری مشینری، بشمول سنو پلوز اور ایکسویٹر تعینات کر دیے ہیں۔” “ہم نے سڑکوں کو پھسلنے سے روکنے اور سیاحوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ان پر نمک بھی چھڑک دیا ہے۔” ان اقدامات کے علاوہ جی ڈی اے اور مری کے حکام نے مختلف مقامات پر سہولتی مراکز بھی قائم کیے ہیں۔
برف باری کی وجہ سے آنے والی رکاوٹوں کے باوجود سیاح خود سے لطف اندوز ہوتے نظر آئے، ان میں سے بہت سے لوگ سنو بال کی لڑائی میں حصہ لے رہے تھے، سنو مین بنا رہے تھے اور برف پوش مناظر کے ساتھ سیلفی لے رہے تھے جو ایک دلکش پس منظر فراہم کر رہے تھے۔ لاہور کے ایک سیاح نے کہا کہ “یہ ایک شاندار تجربہ ہے۔”