ملک بھر میں نیٹ میٹرنگ کے کنکشنز کی بڑھتی ہوئی شرح حکومت اور عام صارفین کے لیے شدید مالی بوجھ کا باعث بننے لگی۔
تفصیلات کے مطابق دسمبر 2024 تک ملک میں نیٹ میٹرنگ کے کنکشنز کی مجموعی طاقت 4,135 میگا واٹ تک پہنچ چکی ہے۔ اس دوران بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے پاس 3,678 میگا واٹ اور کے الیکٹرک کے پاس 457 میگا واٹ کی صلاحیت کے کنکشنز موجود ہیں۔
ذرائع پاور ڈویژن کے مطابق نیٹ میٹرنگ کے بڑھتے ہوئے کنکشنز سے عام صارفین پر مجموعی طور پر 159 ارب روپے کا بوجھ پڑنے کا اندیشہ ہے جبکہ اکتوبر 2024 تک یہ رقم 102 ارب روپے تھی۔ اس طرح صرف چار ماہ میں صارفین کے اوپر 57 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ عائد ہو چکا ہے، جس کا مطلب ہے کہ نیٹ میٹرنگ کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
مزید برآں بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ سے عام صارفین کو فی یونٹ 1 روپے 33 پیسے اضافی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ ذرائع پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ بجلی کے بائی بیک ریٹ پر مناسب نظرثانی کیے بغیر عام صارفین کو بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں سے بچانا ممکن نہیں ہوگا۔ حکومت کو صارفین کے تحفظ کے لیے بائی بیک ریٹ میں کمی لا کر اس اضافی مالی بوجھ کو کم کرنے کی ہنگامی ضرورت ہے۔
مزید یہ کہ ذرائع کا کہنا ہے نیٹ میٹرنگ کی سہولت حاصل کرنے والے زیادہ تر صارفین ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھتے ہیں۔