دنیا بھر میں کرنسی نوٹوں کو عام طور پر کاغذ سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے، جدید تحقیق اور مالیاتی اداروں کی وضاحت کے مطابق کرنسی نوٹ عام کاغذ سے نہیں بلکہ خاص قسم کے ریشوں سے تیار کیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ زیادہ مضبوط اور دیرپا ہوتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ریزرو بینک آف انڈیا نے واضح کیا ہے کہ ان کے زیرِ استعمال کرنسی نوٹ زیادہ تر کپاس کے ریشوں سے تیار کیے جاتے ہیں۔
یہ مواد عام کاغذ سے بالکل مختلف ہوتا ہے، کیونکہ عام کاغذ لکڑی کے گودے سے بنایا جاتا ہے، جبکہ کرنسی نوٹ باریک روئی کے ریشوں یعنی کاٹن لنٹرز سے تیار کیے جاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ نئے نوٹ بینک سے نکلتے وقت سخت اور کرارے محسوس ہوتے ہیں، لیکن استعمال کے ساتھ ساتھ یہ نرم ہو جاتے ہیں، تاہم اپنی مضبوطی برقرار رکھتے ہیں اس کے برعکس عام کاغذ جلد خراب یا پھٹ سکتا ہے۔
کچھ بین الاقوامی ذرائع کے مطابق بعض ممالک میں کرنسی نوٹوں کی تیاری کے لیے تقریباً 75 فیصد کپاس اور 25 فیصد لینن (سن) کا مرکب بھی استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ بھارتی مرکزی بینک کے مطابق ان کے نوٹ مکمل طور پر کپاس پر مشتمل ہوتے ہیں۔
ان نوٹوں کی تیاری میں بعض خاص کیمیائی اجزا بھی شامل کیے جاتے ہیں، جو انہیں مزید مضبوط اور لچکدار بناتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ بار بار استعمال، موڑنے اور حتیٰ کہ نمی کے باوجود کافی عرصے تک قابلِ استعمال رہتے ہیں۔
جدید دور میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بڑھتے رجحان کے باوجود کرنسی نوٹوں کی اہمیت برقرار ہے، اور ان کی منفرد تیاری انہیں عام کاغذ سے واضح طور پر مختلف بناتی ہے۔