وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی حکومت کے ایندھن بچت اور کفایت شعاری اقدامات ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد سرکاری ملازمین کے لیے جمعہ کی اضافہ چھٹی بھی ختم کر دی گئی ۔
کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت نے ایندھن کی بچت اور اخراجات میں کمی کے لیے کیے گئے بعض اقدامات واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے تحت جمعہ کی چھٹی ختم کر دی گئی ہے اور سرکاری ملازمین معمول کے شیڈول کے مطابق کام کریں گے۔
حکومت نے سرکاری گاڑیوں کے استعمال سے متعلق بھی سابقہ پابندیاں ختم کر دی ہیں، 60 فیصد سرکاری گاڑیاں بند رکھنے کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے جبکہ سرکاری افسران اور اداروں کے لیے پیٹرول کی مکمل سہولت دوبارہ بحال کر دی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ملک میں توانائی بچانے کے لیے مارکیٹوں، دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات کار سے متعلق فیصلے بدستور برقرار رہیں گے۔ 3 اور 10 جون سے نافذ کیے گئے بازار بند کرنے کے اوقات میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
حکومت کے مطابق دکانیں، مارکیٹس، شاپنگ مالز اور بازار رات 9 بجے بند ہوں گے جبکہ شادی ہالز اور تقریبات کے مراکز کو رات 10 بجے تک کام کرنے کی اجازت ہوگی۔
اسی طرح ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس رات 11 بجے بند کیے جائیں گے، تاہم ہوم ڈلیوری اور ٹیک اوے سروسز کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق اسپتال، کلینکس، لیبارٹریز، فارمیسیاں، بیکریاں، تندور اور دودھ کی دکانیں اوقات کار کی پابندی سے آزاد ہوں گی۔ اس کے علاوہ پیٹرول پمپس، سی این جی اسٹیشنز، الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز، جم، کھیلوں کی سہولیات، آئی ٹی کمپنیاں اور کال سینٹرز بھی مقررہ اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ قرار دیے گئے ہیں۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ 9 مارچ 2026 سے پہلے نافذ کیے گئے دیگر کفایت شعاری اقدامات بدستور برقرار رہیں گے اور ان پر عمل درآمد جاری رہے گا۔