دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے نیوزی لینڈ نے اپنی مشہور “گولڈن ویزا” اسکیم میں ایک بڑی اور غیر معمولی تبدیلی کا اعلان کر دیا ہے۔
نیوزی لینڈ نے گولڈن ویزا اسکیم میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کا 20 فیصد فلاحی اور ماحولیاتی منصوبوں میں دینے کی اجازت دے دی۔
اس نئی پالیسی کے تحت اب غیر ملکی سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری کا ایک حصہ فلاحی عطیات اور ماحولیاتی تحفظ کے منصوبوں کے لیے بھی مختص کر سکیں گے ، ماہرین اس فیصلے کو عالمی سطح پر “ویلتھ بیسڈ امیگریشن” کے بڑھتے ہوئے رجحان کا اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ نئی پالیسی یکم جون سے نافذ العمل ہوگی ، حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد صرف سرمایہ کاروں کو راغب کرنا نہیں بلکہ ملک میں فلاحی اور ماحول دوست سرگرمیوں کو بھی فروغ دینا ہے۔
گولڈن ویزا اسکیم میں کیا تبدیلی کی گئی؟
نئی پالیسی کے مطابق “گروتھ کیٹیگری” کے تحت درخواست دینے والے افراد کو کم از کم 50 لاکھ نیوزی لینڈ ڈالر، یعنی تقریباً 2.9 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔
اہم بات یہ ہے کہ سرمایہ کار اپنی مجموعی سرمایہ کاری کا زیادہ سے زیادہ 20 فیصد حصہ رجسٹرڈ فلاحی اداروں یا ماحولیاتی منصوبوں کو عطیہ کر سکیں گے تاہم باقی رقم پہلے کی طرح ترقیاتی منصوبوں، منافع بخش اثاثوں اور دیگر معاشی سرگرمیوں میں لگانا لازمی ہوگی۔
حکومت اس پالیسی سے کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟
نیوزی لینڈ حکام کے مطابق اس فیصلے سے دو بڑے فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے۔ ایک طرف غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا جبکہ دوسری جانب فلاحی اور ماحولیاتی منصوبوں کے لیے اضافی فنڈز بھی دستیاب ہوں گے۔
حکومت سمجھتی ہے کہ عالمی سرمایہ کار اب صرف مالی منافع ہی نہیں بلکہ سماجی اثرات اور ماحول دوست اقدامات میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ نئی گولڈن ویزا اسکیم کو جدید عالمی رجحانات کے مطابق ڈھالا گیا ہے۔
عالمی سطح پر امیگریشن پالیسیوں میں نرمی
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کے کئی ممالک دولت مند سرمایہ کاروں کو اپنی معیشت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے امیگریشن قوانین میں نرمی کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کا یہ اقدام مستقبل میں دیگر ممالک کے لیے بھی مثال بن سکتا ہے۔ خاص طور پر وہ ممالک جو معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ سماجی اور ماحولیاتی منصوبوں کے لیے بھی سرمایہ کاری چاہتے ہیں۔
نیوزی لینڈ گولڈن ویزا پالیسی کے ممکنہ اثرات
تجزیہ کاروں کے مطابق نئی پالیسی سے نیوزی لینڈ کو عالمی سرمایہ کاروں کے لیے مزید پرکشش مقام بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ فلاحی اداروں اور ماحولیات کے شعبے کو بھی خاطر خواہ مالی معاونت ملنے کا امکان ہے۔
اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو عالمی سطح پر “ویلتھ بیسڈ امیگریشن” کے رجحان میں مزید تیزی آ سکتی ہے، جہاں سرمایہ کاری کو سماجی فائدے سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔