صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے انگریزی کو امریکا کی سرکاری زبان قرار دیے جانے کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد ’انگریزی‘ اب امریکا کی سرکاری زبان ہوگی۔ اس اقدام سے وفاقی ایجنسیوں اور سرکاری فنڈنگ حاصل کرنے والی تنظیموں کے لیے آسانیاں پیدا ہوں گی۔
وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ کی جانب سے جاری کردہ ایک انتظامی حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انگریزی کو ملک کی سرکاری زبان قرار دیے ہوئے بہت عرصہ گزر چکا ہے۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ’قومی سطح پر نامزد سرکاری زبان متحد اور ہم آہنگ معاشرے کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے اور امریکا تبھی مضبوط ہوگا جب آزادانہ طور پر ایک مشترکہ زبان میں خیالات کا تبادلہ کیا جا سکے گا۔
اس حکم نامے کے تحت 1990 کی دہائی میں اس وقت کے صدر بل کلنٹن کے دور میں جاری کیے گئے صدارتی آرڈر کو منسوخ کر دیا گیا ہے جس کے تحت وفاقی فنڈنگ حاصل کرنے والی وفاقی ایجنسیوں کو غیر انگریزی بولنے والوں کی مدد کی ضرورت پڑتی تھی۔
نئی دستاویز کے مطابق ایجنسیوں کے پاس اب بھی دیگر زبانوں میں مدد حاصل کرنے کا فیصلہ کرنے کا اختیار ہو گا۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ایجنسیوں کے سربراہان کو یہ تعین کرنے کا اختیار حاصل ہے کہ ’اپنی متعلقہ ایجنسیوں کے مشن کو پورا کرنے اور امریکی عوام کو مؤثر طریقے سے سرکاری خدمات فراہم کرنے کے لیے کون سی زبان ضروری ہے۔
وائٹ ہاؤس اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ امریکا میں 350 سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں، آرڈر میں کہا گیا ہے کہ انگریزی ’ہمارےملک کے قیام سے‘ ملکی زبان رہی ہے اور ’آزادی کے اعلان اور آئین سمیت ہمارے ملک کی تاریخی حکومتی دستاویزات تمام انگریزی میں لکھی گئی ہیں‘۔
2019 کے امریکی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 68 ملین افراد اپنے گھروں میں انگریزی کے علاوہ دوسری زبانیں بھی بولتے ہیں۔ اگرچہ انگریزی اب تک ملک میں اکثریتی زبان ہے، لیکن امریکہ میں 40 ملین سے زیادہ افراد گھر پر ہسپانوی بولتے ہیں۔