مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے درمیان ایک نیا معاشی اور سفارتی محاذ کھل گیا ہے۔ امریکا اب ایران کی حالیہ فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں اپنے خلیجی اتحادی ممالک کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کرنے کے لیے ایرانی اثاثوں کو استعمال کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
جنگ بندی کی کوششوں کو خطرہ
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی روئٹر کے مطابق سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کا یہ ممکنہ اقدام امریکا اور ایران کے درمیان پہلے سے موجود انتہائی نازک جنگ بندی کی کوششوں کو مکمل طور پر سبوتاژ کر سکتا ہے۔
امریکی وزارتِ خزانہ کی ہدایات
روئٹر نیوز ایجنسی کے مطابق امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک اعلیٰ سطح کی ٹیم کو خصوصی ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ کویت اور بحرین سمیت دیگر خلیجی ممالک میں ایرانی حملوں سے ہونے والے مالی و ڈھانچہ جاتی نقصانات کا فوری تخمینہ لگائے۔
امریکا اس قانونی اور معاشی پہلو پر بھی غور کر رہا ہے کہ آیا مستقبل میں ہونے والی کسی بھی ممکنہ تباہی کی مرمت اور بحالی کے لیے ایرانی اثاثوں کو براہِ راست استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
منجمد فنڈز سے آگے کی حکمتِ عملی
ذرائع کے مطابق ان ایرانی اثاثوں کی اصل نوعیت واضح نہیں کی گئی، تاہم حکام کی زبان سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ کارروائی صرف مختلف عالمی بینکوں میں منجمد ایرانی فنڈز تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کا دائرہ کار اس سے کہیں وسیع ہو سکتا ہے۔
یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے سپریم لیڈر کے قریبی مشیر محسن رضائی نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ گزشتہ 3 ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی بھی امن معاہدہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب امریکا اپنے بینکوں میں منجمد 24 ارب ڈالر کے ایرانی اثاثے فوری طور پر بحال کرے۔
سمندر اور زمین پر براہِ راست جھڑپیں
یہ تازہ ترین اقتصادی کشیدگی واشنگٹن اور تہران کی افواج کے درمیان سمندر اور زمین پر ہونے والی براہِ راست فوجی جھڑپوں کے بعد پیدا ہوئی ہے۔
ہفتے کی صبح امریکی فورسز نے اسٹرٹیجک لحاظ سے انتہائی اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں واقع گوروک اور جزیرہ قشم پر ایرانی ساحلی ریڈار تنصیبات کو بھاری بمباری کا نشانہ بنایا۔
امریکی ڈرون مخالف آپریشن
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ کارروائی ان ایرانی ڈرونز کو مار گرانے کے بعد کی گئی جو عالمی جہاز رانی اور سمندری آمدورفت کے لیے مستقل خطرہ بنے ہوئے تھے۔ اس کے فوراً بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں مزید 2 ایرانی حملہ آور ڈرون مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا۔
اس کے جواب میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کر دیا۔
کویت میں دفاعی کارروائی
کویتی حکام کے مطابق ان کی دفاعی فورسز نے رہائشی علاقوں کے اوپر سے گزرنے والے 7 بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا، تاہم حملوں کے ملبے سے زمین پر بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا، اگرچہ کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
بحرین میں بھی ہنگامی سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو بنکرز اور محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی۔ ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے دونوں خلیجی ممالک میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ امریکی کمانڈ کا کہنا ہے کہ ان کے دفاعی نظام نے 6 میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیے جبکہ 7واں میزائل ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی گر کر تباہ ہو گیا۔
اثاثوں کو ہتھیار بنانے کی نئی پالیسی
اگر اس صورتحال کا گہرائی سے تجزیہ کیا جائے تو امریکا کی جانب سے ایک خودمختار ملک کے اثاثوں کو دوسرے ممالک کے نقصان کے ازالے کے لیے استعمال کرنے کی حکمتِ عملی عالمی مالیاتی نظام میں ایک خطرناک روایت قائم کر سکتی ہے۔ یہ ماڈل روس اور یوکرین جنگ کے دوران روسی اثاثوں کے معاملے سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے، جس سے عالمی بینکنگ نظام پر کئی ممالک کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔
تیل کی عالمی منڈی کو خطرات
ایران نے اس وقت آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر محدود کر رکھا ہے، جہاں سے جنگ شروع ہونے سے پہلے دنیا کی کل سپلائی کا تقریباً 20 فیصد خام تیل گزرتا تھا۔ اگر امریکا نے ایرانی اثاثوں کو ضبط کرنے کی کوشش کی تو ایران ناکہ بندی مزید سخت کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ سکتی ہیں اور دنیا ایک نئے معاشی بحران کی طرف بڑھ سکتی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطے نہ ہونے کے برابر ہیں اور عبوری معاہدے کے لیے زیادہ تر بالواسطہ یا خفیہ سفارتی چینلز استعمال کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان کا اہم سفارتی کردار
اس نازک مرحلے پر پاکستان کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ پاکستانی وزیر کا ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے اہم خط لے کر تہران پہنچنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام آباد خطے کو ایک بڑی اور تباہ کن جنگ سے بچانے کے لیے سفارتی پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
تہران اس وقت پابندیوں میں نرمی، بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے خاتمے اور اپنے 24 ارب ڈالر واپس چاہتا ہے، جبکہ امریکا اپنے خلیجی اتحادیوں کے تحفظ پر سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہے، جس کے باعث خطے میں امن کے امکانات فی الحال دھندلا دکھائی دے رہے ہیں۔