کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے عطاءاللہ بلوچ کو اپنا مبینہ ’’فدائی حملہ آور‘‘ قرار دیے جانے کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی جبری گمشدگیوں سے متعلق فہرستوں اور دعوؤں پر کا پول کھل کر سامنے آگیا ہے۔
ذرائع کے مطابق عطاءاللہ بلوچ کا نام اس سے قبل بی وائی سی کی جانب سے مبینہ طور پر لاپتہ افراد میں شامل کیا گیا تھا اور اس کی گمشدگی کو انسانی حقوق کے معاملے کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔ تاہم بی ایل اے کے حالیہ بیان میں اسے اپنے فدائی حملہ آور کے طور پر پیش کیے جانے کے بعد مذکورہ دعوے کی صداقت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کالعدم بی ایل اے کے بعد اعتراف کے بعد یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بعض ایسے افراد کو بھی جبری طور پر لاپتہ قرار دیا جاتا ہے جو بعد میں کالعدم مسلح تنظیموں سے وابستہ پائے جاتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کالعدم بی ایل اے کے اس طرزِ عمل سے حقیقی لاپتہ افراد کے مقدمات اور انسانی حقوق کی جائز شکایات کی ساکھ بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کالعدم بی ایل اے ریاست مخالف بیانیہ پھیلاتی اور نوجوانوں کو شدت پسند تنظیموں کی جانب راغب کرتی ہے، جبکہ بی ایل اے مسلح کارروائیوں کے لیے ان نوجوانوں کو استعمال کرتی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ پر بھی ان گروہوں کی پشت پناہی کرتی ہے اور اس تعاون کا مقصد گوادر، پاک چین اقتصادی راہداری اور بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کو نقصان پہنچانا ہے۔