مانسہرہ میں منعقدہ جلسے کے دوران کارکنوں نے پارٹی قیادت خاص کر سہیل آفریدی کے خلاف سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے ہمیں مرد چاہیے ( ٹرانسجینڈر ) اور خان کی رہائی کیلئے مؤثر اور عملی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
کارکنوں نے جذباتی انداز میں پارٹی قیادت کو ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں واضح اور مضبوط اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکیں،سہیل آفریدی مرد نہیں ہے عمران خان کی رہائی کیلئے مرد چاہیے ۔
کارکنوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ ہر چوک ڈی چوک کا نعرہ لگانے والا مرد نہیں ہے مرد ہوتا تو عمران خان کی رہائی کے لیے جدوجہد کرتا ہمیں ایسی قیادت نہیں چاہیے ۔
کارکنوں کی طرف سے تنقید کے بعد یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ تحریک انصاف مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہے اور قیادت سے کارکن شدید مایوس ہیں ۔
قبل ازیں بھی تحریک انصاف کی قیادت میں اختلافات کھل کر سامنے آئے تھے علیمہ خان اورپارٹی قیادت کے درمیان آئے روز جملے بازی ہوتی رہتی ہے جو شدید اختلافات کو ظاہر کرتی ہے ۔
اس سے پہلے بھی کارکنوں کی طرف سے متعدد بار سہیل آفریدی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے تحریک انصاف کے کارکن سہیل آفریدی اور موجود ہ قیادت سے نالاں ہیں اور کے پی کے کے لوگ بھی صوبائی حکومت سے تنگ آچکے ہیں