بنوں میں چیک پوسٹ پر فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت پر پراپیگنڈا، تجزیہ کار عقیل یوسفزئی حقائق سامنے لے آئے

سینئر تجزیہ کار عقیل یوسفزئی نے بنوں واقعے سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ریاست مخالف عناصر نے بنوں کینٹ میں نوجوان کی ہلاکت پر پراپیگنڈا شروع کیا، ملک کے اندر بہت سے عناصر ایسے ہیں جو لاشوں کی سیاست کرتے ہیں اور حقائق کو مسخ کرکے رکھ دیتے ہیں۔

عقیل یوسفزئی نے بتایا کہ آج سہ پہر بنوں کا انتہائی حساس علاقہ جسے ریڈزون کہا جاتا ہےاور رواں ماہ ہی یہاں دہشتگردوں نے حملہ کیا تھا، جس میں معصوم بچوں اور خواتین سمیت متعدد افراد جاں بحق اوردرجنوں افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس علاقے میں دو موٹرسائیکل سوار اس کے باوجود کہ اس سڑک پر کام چل رہا تھا اور سڑک بند تھی۔ایسے میں کوئی ذی شعور انسان ایسے علاقے میں کیوں جائیگا؟۔

مزید پڑھیں: جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان اور ٹانک میں کل کرفیو نافذ، نوٹیفیکیشن جاری

تجزیہ کار نے بتایا کہ جیسے ہی یہ موٹرسائیکل سوار اس علاقے میں داخل ہوئے، سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں نےپروٹوکول کے مطابق پہلے سیٹیاں بجا کر ان سواروں کو روکنے کی کوشش کی ،پھر ہاتھ ہلا کر انہیں روکا گیا اور بہت کوشش کی گئی کہ یہ لوگ وہیں رُک جائیں ۔ تاہم موٹرسائیکل سواروں نے کسی بھی اشارے کی پرواہ نہ کی اور چلتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسا حساس علاقہ جہاں سیکیورٹی سخت ہو، ریڈزون قرار دیا گیا ہو وہاں جب وہ موٹرسائیکل سوار نہ رُکے تو گولیاں چلیں ،اس کے نتیجے میں ایک جوان موقع پر جاں بحق ہوا اور دوسرے زخمی کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس واقعے کے فوری بعد تحقیقات شروع کی گئیں کہ یہ لوگ کون ہیں اور کن حالات کے تناظر میں انہیں گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ابھی انکوائری کی رپورٹ آئی بھی نہیں کہ اس سے پہلے بنوں اور قبائلی

علاقوں میں مخصوص گروپس کے لوگوں نے پراپیگنڈا کرنا شروع کر دیاکہ ریاست نے معصوم جوان کی جان لے لی ہے۔ اب اس قسم کی صورتحال میں اگر یہ کوئی دہشتگرد ہوتے اور انہوں نے کوئی حملہ کر دیا ہوتاتو یہی لوگ کہتے کہ ہماری سیکیورٹی فورسز نااہل ہیںاور کہتے کہ ان کے پاس کوئی انٹیلی جنس نہیں ہوتی اور یہ حملوں کو ناکام بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے واقعات پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کرنے کی بجائے ان علاقوں میں ماضی میں پیش آنیوالے واقعات کے تناظر میں دیکھا جائے اور سیکیورٹی فورسز کے چیلنجز کو بھی سمجھا جائے تاکہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *