امریکا ایران معاہدہ کے بعد آبنائے ہرمز کب کھلے گی؟ناکہ بندی کا خاتمہ کب؟ یورینیم افزودہ کتنی ؟ اہم تفصیلات آگئیں

امریکا ایران معاہدہ کے بعد آبنائے ہرمز کب کھلے گی؟ناکہ بندی کا خاتمہ کب؟ یورینیم افزودہ کتنی ؟ اہم تفصیلات آگئیں

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی کے لیے 14 نکاتی مفاہمتی مسودے کی تفصیلات منظر عام پر آ گئی ہیں جسے خطے میں ایک بڑی سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق مجوزہ مسودے میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی 30 دن کے اندر ختم کی جائے گی جبکہ ایران کے تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات پر عائد پابندیاں بھی عارضی طور پر معطل کرنے کی تجویز شامل ہے۔

مسودے کے مطابق لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی پر اتفاق کیا جائے گا جس کا مقصد خطے میں جاری عسکری کشیدگی کو کم کرنا ہے۔

مجوزہ فریم ورک میں یہ بھی شامل ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی ایران کی تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر فراہم کریں گے جبکہ مذاکراتی عمل کے دوران ایران کے منجمد 24 ارب ڈالر کے اثاثے بھی جاری کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیںامریکا ایران معاہدہ طے پانے کے بعد امریکی صدر اور نتین یاہو کے مابین رابطہ، ردعمل کیا رہا؟

مسودے کے مطابق حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے کی جائے گی تاکہ اسے بین الاقوامی قانونی حیثیت حاصل ہو سکے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں معاہدے سے متعلق اہم نکات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے محدود سطح پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی جائے گی جبکہ اسے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی سختی سے ممانعت ہوگی۔

ٹرمپ کے مطابق اگر ایران مستقبل میں کسی بھی قسم کی سخت کارروائیوں یا عدم تعاون کی طرف جاتا ہے تو اسے پابندیوں میں نرمی کا فائدہ نہیں دیا جائے گا تاہم ذرائع کے مطابق یہ شرط باضابطہ مسودے کا حصہ نہیں ہے۔

امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک مشکل شخصیت ہیں اور انہیں امریکا کی حمایت کو تسلیم کرنا چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو اسرائیل کا وجود خطرے میں پڑ سکتا تھا جبکہ لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں نے سفارتی عمل کو متاثر کیا ہے۔

ٹرمپ کے مطابق ایران پر فوجی دباؤ اور حالیہ کشیدگی نے مذاکرات کی راہ ہموار کی تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حتمی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکا دوبارہ فوجی آپشن استعمال کر سکتا ہے۔

editor

Related Articles