سابقہ امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتن یاہو نے صدر ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ میں زبردستی دھکیلا ہے۔
اپنے ایک خصوصی بیان میں انہوں نے کہا کہ ٹرمپ ایک ایسی جنگ کا حصہ بن گئے ہیں جس میں امریکی عوام کو کوئی دلچسپی نہیں تھی اور یہ فیصلہ سراسر عوامی خواہشات کے خلاف ہے۔
کملا ہیرس نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ اس براہِ راست تنازع نے نہ صرف خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے بلکہ امریکی فوجیوں کی جانوں کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
ان کے بقول، صدر ٹرمپ نے نتن یاہو کے سیاسی مفادات کی خاطر امریکی سیکیورٹی کو خطرے میں ڈالا ہے، جبکہ اس جنگ کے کڑوے نتائج عام امریکی شہریوں کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ آبنائے ہرمز کے بحران اور جنگی حالات کی وجہ سے عام امریکیوں کو اب ایندھن کی بہت زیادہ قیمتیں ادا کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جس نے ملکی معیشت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
کملا ہیرس کے اس بیان نے امریکی سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان میں مذاکرات کا دوسرا دور متوقع ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور اسرائیل کے درمیان اسٹرٹیجک تعلقات ہمیشہ سے مضبوط رہے ہیں، تاہم ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے امریکا کے اندرونی سیاسی درجہ حرارت کو بھی بڑھا دیا ہے۔
کملا ہیرس کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور ٹرمپ نے بدھ تک معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ بمباری کی دھمکی دی ہے۔
ڈیموکریٹس کی جانب سے یہ بیانیہ ترتیب دیا جا رہا ہے کہ ریپبلکن دورِ حکومت میں امریکی مفادات کو غیر ملکی قیادت (اسرائیل) کے تابع کر دیا گیا ہے، جس کا بوجھ براہِ راست ٹیکس گزاروں اور فوجیوں پر پڑ رہا ہے۔