امریکہ کے صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ بیروت میں آج صبح ہونے والی کارروائی نہیں ہونی چاہیے تھی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران کے ساتھ ایک اہم امن معاہدے کے قریب پہنچا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور دیرپا امن کے لیے سفارتی کوششیں انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں اور ایسے حالات میں کسی بھی قسم کی عسکری کارروائی ان کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
ٹرمپ نے سوشل ٹروتھ پر اپنے بیان میں کہا کہ اگرچہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، لیکن جس چھوٹی کارروائی کے جواب میں یہ حملہ کیا گیا وہ نہایت معمولی تھی اور اس سے کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔
امریکی صدر نے کہا کہ اس واقعے میں نہ کوئی شخص زخمی ہوا اور نہ ہی کسی کی جان گئی، اس لیے اس کو بنیاد بنا کر بڑے پیمانے پر کشیدگی پیدا کرنا مناسب نہیں تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ایران کے ساتھ ایک ایسے معاہدے پر بات چیت جاری ہے جو پورے خطے میں امن و استحکام کی نئی راہ ہموار کر سکتا ہے یہ معاہدہ صرف ایران اور امریکہ ہی نہیں بلکہ لبنان سمیت پورے مشرق وسطیٰ کے لیے امن کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو چاہیے کہ وہ لبنان میں مزید کسی بھی کارروائی سے گریز کرے اور اسی طرح کسی بھی دوسری جانب سے، خصوصاً حزب اللہ کی طرف سے بھی اسرائیل کے خلاف حملے بند ہونے چاہئیں تاکہ کشیدگی مزید نہ بڑھے۔
یہ لمحہ ایک تاریخی موقع ثابت ہو سکتا ہے، جہاں سے خطے میں طویل اور پائیدار امن کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے اگر تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں تو یہ صورتحال ایک نئی اور بہتر صبح کا آغاز بن سکتی ہے، لیکن اگر تشدد کا سلسلہ جاری رہا تو یہ نازک موقع ضائع ہو سکتا ہے۔