دنیا کے پہلے نیوکلیئر تجربے کے بعد بننے والا ایک انتہائی منفرد کرسٹل سائنسدانوں نے دریافت کر لیا ہے، جسے ماہرین نے اپنی نوعیت کا غیر معمولی سائنسی نمونہ قرار دیا ہے۔
یہ دریافت امریکی ریاست نیو میکسیکو میں 1945 میں کیے گئے تاریخی ٹرینیٹی ایٹمی تجربے سے جڑی ہوئی ہے، جو دنیا کا پہلا ایٹمی دھماکہ تھا۔
ماہرین کے مطابق اس دھماکے کے شدید اور انتہائی مختصر لمحاتی حالات نے ایسے معدنی ڈھانچے کو جنم دیا جو قدرتی طور پر زمین پر عام حالات میں بن ہی نہیں سکتے۔
تحقیق کرنے والی ٹیم، جس کی قیادت یونیورسٹی آف فلورنس کے ماہر لوکا بنڈی کر رہے ہیں، نے بتایا کہ یہ ایک نیا کیلشیم، کاپر اور سلیکیٹ پر مشتمل نایاب کرسٹل ہے، جسے کلیتھریٹ ساخت کے طور پر تصدیق کیا گیا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایٹمی دھماکوں کے دوران پیدا ہونے والی توانائی اور دباؤ ایسی غیر معمولی چیزیں تخلیق کر سکتے ہیں جو روایتی سائنسی عمل سے ممکن نہیں۔
ٹرینیٹی تجربے میں پلوٹونیم امپلوژن ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا دھماکا تقریباً 21 کلوٹن ٹی این ٹی کے برابر تھا، جو انسانی تاریخ کے سب سے اہم سائنسی مگر تباہ کن تجربات میں شمار ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ دریافت نہ صرف ایٹمی تاریخ کو سمجھنے میں مدد دے گی بلکہ انتہائی حالات میں مادے کے رویے پر نئی تحقیق کے دروازے بھی کھولے گی۔منفد