خیبر پختونخوا حکومت مالی سال 2026-27 کا بجٹ آج صوبائی اسمبلی میں پیش کرے گی جس میں ترقیاتی منصوبوں عوامی فلاحی پروگراموں اور سرکاری ملازمین کیلئے متعدد ریلیف اقدامات کا اعلان متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں نمایاں اضافے اور پنشنرز کیلئے پنشن بڑھانے کی تجویز شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ حکومت مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کیلئے ملازمین اور ریٹائرڈ افراد کو ریلیف فراہم کرنے پر غور کر رہی ہے جس کے باعث بجٹ سے وابستہ توقعات میں اضافہ ہوگیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق تعلیم صحت، مواصلات، آبپاشی اور مقامی حکومتوں کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے بھی خطیر فنڈز مختص کیے جانے کی توقع ہے جبکہ نوجوانوں کیلئے روزگار اور ہنر مندی کے پروگراموں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
صوبائی اسمبلی کے شیڈول کے مطابق بجٹ پر بحث کیلئے چار روز مختص کیے گئے ہیں۔ اراکین اسمبلی 22، 23، 24 اور 27 جون کو بجٹ تجاویز پر اظہار خیال کریں گے جبکہ 28 جون کو بجٹ کی منظوری دی جائے گی۔
بجٹ اجلاس کے دوران چار روز وقفہ رہے گا جن میں دو دن اسمبلی قواعد کے مطابق تعطیل جبکہ دو دن عاشورہ محرم کی سرکاری چھٹیوں کی وجہ سے اجلاس منعقد نہیں ہوگا۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ مالی حالات کے باوجود عوامی ریلیف اور ترقیاتی اخراجات کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سرکاری ملازمین، پنشنرز اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی نظریں آج پیش کیے جانے والے بجٹ پر مرکوز ہیں جس سے ان کی معاشی مشکلات میں کمی کی امید وابستہ کی جا رہی ہے۔