ذیابیطس کے علاج کے شعبے میں سائنسدانوں نے ایک اہم پیش رفت کی ہے، جہاں انہوں نے زندہ خلیوں سے ایک چھوٹا حیاتیاتی لبلبہ تیار کیا ہے جو قدرتی طور پر انسولین پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق یہ مصنوعی منی پینکریاز انسانی لبلبے کے کچھ اہم افعال کی نقل کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جس سے مستقبل میں ذیابیطس کے مریضوں کے لیے علاج کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی روایتی طریقوں، جیسے بار بار انسولین لینے کی ضرورت کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، تاہم اسے عام علاج کا حصہ بنانے سے پہلے مزید تحقیق اور طبی آزمائشیں ضروری ہیں۔
سائنسدانوں کے مطابق یہ دریافت ذیابیطس کے لیے زیادہ مؤثر اور طویل مدتی علاج کی جانب ایک امید افزا قدم ہے، جو مستقبل میں لاکھوں مریضوں کی زندگیوں میں بہتری لا سکتی ہے۔