لندن میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے عالمی سطح پر اہم پیش رفت سامنے آگئی ہے جہاں 30 سے زائد ممالک کے فوجی منصوبہ ساز آج ایک اہم کانفرنس میں سر جوڑ رہے ہیں-
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب خطے میں کشیدگی کے باعث عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل شدید متاثر ہو چکی ہے۔ برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق دو روزہ کانفرنس میں شریک ممالک کے عسکری ماہرین اپنی صلاحیتوں، کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز اور خطے میں ممکنہ فوجی تعیناتی کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔
کانفرنس کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے ایک قابلِ عمل اور مشترکہ حکمت عملی تیار کرنا ہے۔
اجلاس میں پیش کیے جانے والے کسی بھی فوجی منصوبے پر فوری عملدرآمد نہیں کیا جائے گا بلکہ اسے خطے میں پائیدار جنگ بندی معاہدے سے مشروط کیا گیا ہے،تاکہ کسی بھی ممکنہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی منڈیوں میں تیل کی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے جس کے
کانفرنس میں کوئی مشترکہ لائحہ عمل طے پا جاتا ہے تو یہ نہ صرف خطے میں استحکام کے لیے اہم پیش رفت ہوگی بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی ایک مثبت اشارہ تصور کیا جائے گا کیونکہ آبنائے ہرمز کو دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے جہاں سے تیل کی بڑی مقدار عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔