سابق بھارتی وزیر خارجہ اورکانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے حکومت بھارت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پاکستان کی مضبوط فوجی صلاحیتوں اور جدید ہتھیاروں کے ہوتے ہوئے اس سے کوئی مقابلہ نہیں کر سکتی، اس لیے اس کے خلاف کوئی نئی فوجی کارروائی شروع نہ کی جائے۔
ایک بھارتی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق بھارتی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی فوج بہت طاقتور ہے اور میں نے دوستوں سے سنا ہے کہ اس کے پاس جدید ہتھیار ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ حکومت کو مزید اس کے خلاف کوئی فوجی مہم جوئی کرنی چاہیے۔
سشی تھرور نے بھارت اور پاکستان کے درمیان موجودہ جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے صحیح سمت میں اٹھایا گیا قدم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ’میں سیز فائر کا حامی ہوں، یہ ایک مثبت قدم ہے لیکن تعلقات کو معمول پر لانے میں وقت لگے گا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان حکومتی اور عوامی رابطوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہاکہ بچھڑے ہوئے خاندانوں کو دوبارہ ملنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ میں مزید ویزے جاری کرنے اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان ذاتی تبادلوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی حمایت کرتا ہوں۔