مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں فالس فلیگ پر پاکستان کے خلاف جارحیت میں برح طرح ناکامی پر بھارتی صحافی اور سیاستدان وزیراعظم نریندر مودی پر برس پڑے ہیں، بھارتی صحافیوں اور سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر نے سیز فائر کا اعلان کر کے ہمار قومی سلامتی کا مذاق اڑایا، نریندر مودی اس کی وضاحت کریں۔
معرکہ ’بنیان مرصوص‘ میں پاکستان کے بھارت کو منہ توڑ جواب پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سیز فائر کے اعلان کو بھارت اور بھارت کے سیاستدانوں اور صحافیوں نے کھلے عام مسترد کر دیا ہے، اور اپنی ہی حکومت پر برسنے لگے ہیں۔
سیز فائر کے بعد بھارتی سیاستدانوں سمیت صحافیوں نے امریکی صدر کے بیان کو مسترد کرتے ہو نریندر مودی سمیت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
بھارتی سیاستدان پرکاش امبیڈکر نے مودی سرکار پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے سیزفائر کا اعلان کیا اور بھارت کو خبر تک نہ ہوئی، ٹرمپ انتظامیہ نے خود ہی بھارت پاکستان جنگ ختم کر دی، مودی اور بھارتی دفتر خارجہ نے سیز فائر معاہدے پر مکمل چپ سادھ لی ہے، لیڈر شپ مکمل طور پر ناکام رہی، ٹرمپ نے یکطرفہ فیصلہ کر کے بھارت کی قومی سلامتی کو مذاق بنا دیا ہے۔
کانگریس کے ایک اور بھارتی سیاستدان پون کھھیڑا نے کہا کہ یہ مودی سرکار کی ناکامی ہے کہ سیزفائر کی خبر ہمیں امریکی صدر سے سننی پڑی، بھارت کی خارجہ پالیسی اب واشنگٹن سے چلائی جا رہی ہے، مودی کو سیز فائر کا علم نہیں تھا تو ہمیں اعتماد میں لینا چاہیے تھا، بھارتی عوام کو حق ہے کہ وہ یہ جان سکیں کہ یہ فیصلہ کہاں سے کیا گیا۔
ادھر بھارت کے معروف صحافی ارناب گوسوامی نے کہا کہ یہ ٹرمپ کا کام نہیں کہ وہ سیز فائر جیسے حساس معاملے پر دعویٰ کرے جب ہم نے اس پر کوئی اتفاق ہی نہیں کیا، کچھ دن پہلے ٹرمپ نے کہا تھا کہ پاک بھارت اس کا مسئلہ نہیں، اب اچانک جنگ بندی کا اعلان کیسے کر دیا، میں ٹرمپ کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کرتا ہوں کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی ہو گئی ہے۔ارناب گوسوامی نے کہا کہ ہمارا میڈیا صرف مودی اور بھارتی افواج کی بات مانے گا۔
ادھر دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ باہر والوں کی نہیں، بھارتی میڈیا نے پہلے خبر چلائی کہ سیز فائر مودی کی اپیل پرہوئی اور اس کے بعد وہ خبر ہٹا دی جس سے واضح ہوتا ہے کہ بھارتی حکام اس خبر کو جھٹلا رہے ہیں، آپریشن بنیان مرصوص کے بعد سے مودی نے شرم کے خوف سے ٹرمپ سے سیز فائر کی اپیل کی اور پھر مکر گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی کی اپیل پر ٹرمپ نے سیز فائر کا اعلان کیا جو بھارتی میڈیا نے بھی نشر کیا، مودی کی خاموشی ثابت کرتی ہے کہ فیصلہ دہلی میں نہیں، واشنگٹن میں ہوا۔