اسلامیہ کالج پشاور میں اساتذہ اور طلباء کے درمیان ’’قریبی تعلقات’’ پر مکمل پابندی عائد

اسلامیہ کالج پشاور میں اساتذہ اور طلباء کے درمیان ’’قریبی تعلقات’’ پر مکمل پابندی عائد

 اسلامیہ کالج پشاور نے اساتذہ، عملے اور طلباء کے درمیان رومانوی یا قریبی تعلقات پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی “جنسی ہراسانی سے تحفظ کی پالیسی 2020″، خواتین کو کام کی جگہ پر ہراسانی سے تحفظ ایکٹ 2010 (ترمیم شدہ 2012)، اور حکومت خیبر پختونخوا کی جانب سے 23 اکتوبر 2024 کو جاری کردہ احکامات کے تحت کیا گیا ہے۔

یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ کالج کے تمام تدریسی، انتظامی، اور متعلقہ شعبہ جات اس پالیسی پر فوری عمل درآمد یقینی بنائیں۔ کالج کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق کے دستخط سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد تعلیمی ادارے میں ایک محفوظ، مہذب اور مثبت تعلیمی ماحول کو فروغ دینا ہے۔

پالیسی کے مطابق اساتذہ اور طلباء کے درمیان کسی بھی قسم کا رومانوی یا ذاتی تعلق سختی سے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ ایسے تعلقات نہ صرف تعلیمی یا پیشہ ورانہ فیصلوں پر اثرانداز ہو سکتے ہیں بلکہ ادارے کی ساکھ کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جس میں برطرفی، معطلی، جرمانے، ترقی یا ڈگری روکنے جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔

مزید یہ کہ یہ پالیسی نہ صرف کالج کے اندر بلکہ اس سے منسلک تمام اداروں، آن لائن کلاسز، اور بیرونی سرگرمیوں پر بھی لاگو ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی احتجاج : سوشل میڈیا پر ریاست کیخلاف پراپیگنڈا کرنیوالے افرادکی لسٹ آزاد ڈیجیٹل نے حاصل کرلی

اسلامیہ کالج پشاور کی ویب سائٹ پر “ہراسانی شکایت سیل” کے ذریعے شکایات درج کروانے کی سہولت بھی موجود ہے، جہاں طلباء اور عملہ اپنی شکایات براہ راست جمع کرا سکتے ہیں۔

ادارے نے تمام متعلقہ افسران و شعبہ جات کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس پالیسی پر فوری عملدرآمد کریں اور ہر سطح پر آگاہی کو یقینی بنائیں۔

آزاد ڈیجیٹل کو رابطہ کرنے پر وی سی ڈاکٹر ضیاء الحق نے بتایا کہ ہراسمنٹ واقعے کے بعد اس اعلامیہ کو جاری کرنا پڑا اور یونیورسٹی میں نگرانی بھی سخت کردی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: اسلامک یونیورسٹی کی طالبہ کا قتل

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *