بھارت کا مخاصمانہ روّیہ جاری، پاکستان کے ساتھ مبینہ روابط کے الزام میں جیوتی ملہوترا سمیت متعدد افراد گرفتار

بھارت کا مخاصمانہ روّیہ جاری، پاکستان کے ساتھ مبینہ روابط کے الزام میں جیوتی ملہوترا سمیت متعدد افراد گرفتار

بھارتی پولیس نے ہریانہ، پنجاب اور دہلی میں متعدد افراد کو پاکستان کے ساتھ مبینہ روابط کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے، ان میں ایک ٹریول و لاگر اور ایک یونیورسٹی کے پروفیسر بھی شامل ہیں، جن کے پاکستان سے مبینہ روابط اور دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی سے متعلق ملک مخالف تبصروں کا الزام ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق یہ پیش رفت مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام واقعے کے بعد پاکستان کے خلاف نئی دہلی کے الزامات پر بھارت اور پاکستان کے درمیان فوجی تصادم کے بعد ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ 6 اور 7 مئی کی رات کو ، بھارت نے پاکستان میں فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کیا، جس کے نتیجے میں بے گناہ شہری شہید ہوئے۔ اسلام آباد نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے 5 بھارتی طیارے مار گرائے۔ بھارت کی جانب سے بھیجے گئے ڈرونز کو روکنے اور ایک دوسرے کے ایئر بیسز پر حملے کرنے کے بعد 10 مئی کو امریکی مداخلت کے بعد دونوں فریقوں نے بالآخر سیز فائر پر آمادگی ظاہر کی۔

ہریانہ کی اشوکا یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر علی خان محمود آباد کو دہلی میں ان کے گھر سے اٹھایا گیا تھا ان پر الزام ہے کہ انہوں نے بھارت کے آپریشن سندور کے خلاف بات کی ہے۔ علی خان محمود آباد کے خلاف شکایت بھارتیہ جنتا پارٹی کے یوتھ ونگ کے جنرل سکریٹری یوگیش جتھیری نے ہریانہ کے سونی پت ضلع میں درج کرائی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ محمود آباد کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے، انتشار پیدا کرنے ، علیحدگی پر اکسانے ، مسلح بغاوت یا تخریبی سرگرمیوں اور مذہبی عقائد کی توہین سے متعلق جرائم کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

8 مئی کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں یونیورسٹی کے پولیٹیکل سائنس ڈپارٹمنٹ کے سربراہ محمود آباد نے دائیں بازو کے ہندوتوا مبصرین کی جانب سے کرنل صوفیہ قریشی پر تنقید کو ستم ظریفی قرار دیا تھا۔

انہوں نے لکھا تھا کہ ’شاید وہ بھی اتنی ہی بلند آواز میں یہ مطالبہ کر سکتے ہیں کہ کرنل صوفیہ کے گھر پر حملہ کرنے والوں، بی جے پی کے نفرت انگیز جذبات کا شکار ہونے والے دیگر لوگوں کو بھارتی شہری کے طور پر تحفظ فراہم کیا جائے۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ہریانہ اسٹیٹ کمیشن نے ان کے ریمارکس کو ’ فوجی کارروائیوں کو بدنام کرنے کی کوشش‘ کے طور پر بیان کیا ہے۔

ہریانہ اسٹیٹ کمیشن فار ویمن نے کرنل قریشی کے بارے میں ان کے ریمارکس کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے کہا تھا کہ ان سے ہندوستانی مسلح افواج میں خواتین افسروں  کے کردار کو کمزور کیا گیا اور فرقہ وارانہ اختلافات کو ہوا ملی۔

دوسری جانب بھارتی پولیس نے پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں پنجاب اور ہریانہ سے ٹریول وی لاگر جیوتی ملہوترا سمیت 5 دیگر افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔

انڈیا نیوز نیٹ ورک کے مطابق ہریانہ کے ضلع حصار سے تعلق رکھنے والی 33 سالہ جیوتی ملہوترا جو یوٹیوب چینل ’ٹریول ود جو’ چلاتی ہیں، کو بھارت کے آفیشل سیکریٹس ایکٹ 1923 کے تحت مبینہ طور پر ‘پاکستانی کارندوں کو حساس معلومات منتقل کرنے’ کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق وہ 2 سال قبل مبینہ طور پر پاکستانی کارکن کے ساتھ رابطے میں آئی تھی اور دو بار پاکستان گئی تھیں۔ جیوتی ملہوترا نے اپنے یوٹیوب چینل پر پاکستان کے پنجاب میں مشہور سکھ مقامات گوردوارہ دربار صاحب اور گوردوارہ پنجہ صاحب کے دورے کی ویڈیوز اپ لوڈ کی تھیں۔ ہریانہ کے محکمہ بجلی سے ریٹائر ہونے والے وی لاگر کے والد نے ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ ان کی بیٹی کو پھنسایا جا رہا ہے۔

آئی این این کے مطابق ملہوترا کے ساتھ گرفتار کیے گئے افراد میں ایک سیکیورٹی گارڈ، ایک یونیورسٹی کا طالب علم اور عام شہری شامل ہیں جنہیں مبینہ طور پر ’پاکستانی رابطوں سے رقم یا ہدایات ملی تھیں‘۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مشتبہ افراد میں پنجاب کے ملیر کوٹلہ سے تعلق رکھنے والی گوزالہ اور اس کی دوست بانو نسرین شامل ہیں جنہیں اپریل 2025 میں پاکستانی ویزا جاری کیا گیا تھا۔

اس معاملے میں ہریانہ کے نوح ضلع سے تعلق رکھنے والے ارمان کا نام بھی شامل ہے، جس نے مبینہ طور پر ہندوستانی سم کارڈ فراہم کیے اور کارندوں کی طرف سے رقم منتقل کی۔

ایک اور کریک ڈاؤن میں آسام پولیس نے فوج کی انٹیلی جنس  معلومات پر کارروائی کا دعویٰ کرتے ہوئے 7 افراد کو گرفتار کیا اور مبینہ طور پر جعلی سم کارڈکا استعمال کرنے اور’پاکستانی ایجنٹوں‘ کے ساتھ حساس معلومات شیئر کرنے والے ایک گروہ کے طور پر گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان سات کے علاوہ 14 لوگوں سے پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے۔

ٹائمز آف انڈیا نے آسام پولیس چیف ہرمیت سنگھ کے حوالے سے بتایا کہ پولیس ٹیمیں تلنگانہ کے حیدرآباد کے ساتھ ساتھ راجستھان اور آسام کے شہروں میں بھی روانہ کردی گئی ہیں۔

سنگھ نے بتایا کہ صدیق، عارف خان اور ساجد کو راجستھان کے بھرت پور اور الور سے گرفتار کیا گیا جبکہ اکیک کو آسام کے گوہاٹی کے ہوائی اڈے پر حراست میں لیا گیا۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق ارساد کو نئی دہلی ہوائی اڈے، تلنگانہ کے موفیجول اور آسام کے بلاسی پاڑہ قصبے میں جاکریا سے گرفتار کیا گیا۔

سرحد کی دوسری جانب پاکستانی صحافیوں اور مبصرین نے بھارتی میڈیا کی ان رپورٹس کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا ہے،  صحافی حامد میر نے اپنے بلاگ کی ویڈیوز شیئر کرنے اور ان پر جاسوس ہونے کا الزام لگانے والے ایک بھارتی صارف کا جواب دیتے ہوئے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ ملہوترا ‘جاسوسی نہیں کر رہی تھیں اور صرف اپنے یوٹیوب چینل کے لیے ویڈیو بنا رہی تھیں۔’

جاسوس عوامی مقامات پر سر عام اس طرح ویڈیوز نہیں بناتے وہ خفیہ استعمال کے لیے خفیہ ویڈیوز بناتے ہیں۔ پاکستان کو اس طرح کے جاسوسوں کی ضرورت نہیں ہے۔

ایک اور پاکستانی صحافی عمارہ احمد نے لکھا کہ جیوتی ملہوترا ایک اچھے وکیل اور منصفانہ ٹرائل کی مستحق ہیں۔ سیاست اور انسانی حقوق کی کوریج کرنے والی صحافی ایلیا زہرہ نے اس پورے واقعے کو ‘مضحکہ خیز’ قرار دیا۔ ایک یوٹیوبر کے پاس ممکنہ طور پر کیا ریاستی راز ہو سکتے ہیں؟

پوڈکاسٹر شہزاد غیاث شیخ کا کہنا تھا کہ پیغام بالکل واضح ہے کہ کوئی بھی بھارتی کنٹنٹ کریئٹر پاکستان کے ساتھ بات چیت نہیں کرے گا اور نہ ہی انہیں سزا دی جانی چاہیے۔

Related Articles