عالمی مارکیٹ کا نیا رُخ، سونا، چاندی سستے، پلاٹینم مہنگا، تیل کی قیمتیں بھی چڑھ گئیں

عالمی مارکیٹ کا نیا رُخ، سونا، چاندی سستے، پلاٹینم مہنگا، تیل کی قیمتیں بھی چڑھ گئیں

عالمی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی جبکہ خام تیل، پلاٹینم اور پیلیڈیم کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ تبدیلیاں بین الاقوامی کموڈٹی مارکیٹ میں پیش آئیں۔

جمعرات کے روز جب سونا گزشتہ ایک ہفتے کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گیا۔ امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور سخت امریکی مالیاتی پالیسی کے باعث۔ اسپاٹ گولڈ 0.4 فیصد کمی سے 4,060.46 ڈالر جبکہ چاندی 0.9 فیصد کمی سے 57.77 ڈالر فی اونس پر آگئی۔

مستقبل کی صورتحال کیا ہے؟

بینک آف امریکا نے 2026 کے لیے سونے کی اوسط قیمت کی پیش گوئی 14 فیصد کم کر دی ہے، جبکہ شرح سود طویل عرصے تک بلند رہنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

سونے کی قیمتوں میں کمی، خام تیل مہنگا

بین الاقوامی مارکیٹ میں جمعرات کو سونے کی قیمتوں میں گراوٹ کا رجحان دیکھا گیا، جس کے بعد قیمتی دھات کی قیمت گزشتہ روز کی ایک ہفتے کی کم ترین سطح کے قریب بند ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:نئے ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیاں ، عالمی منڈی کے بعد پاکستان میں بھی سونا مہنگا

دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں یکدم بڑھ گئی ہیں، جس نے دنیا بھر میں مہنگائی اور طویل عرصے تک بلند شرح سود کے خدشات کو ایک بار پھر ہوا دے دی ہے۔

سونے اور دیگر قیمتی دھاتوں کے تازہ ترین اعداد و شمار

عالمی صرافہ مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.4 فیصد کمی کے بعد 4,060.46 ڈالر فی اونس پر آگئی، یاد رہے کہ بدھ کو سونا یکم جولائی کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔

اسی طرح امریکی گولڈ فیوچر برائے اگست ڈیلیوری بھی 0.3 فیصد گراوٹ کے ساتھ 4,069.80 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتا رہا۔

دیگر دھاتوں میں چاندی کی قیمت 0.9 فیصد کمی کے ساتھ 57.77 ڈالر فی اونس ریکارڈ کی گئی، جب کہ اس کے برعکس پلاٹینم 0.8 فیصد اضافے کے بعد 1,591.13 ڈالر اور پلاٹینیم 0.8 فیصد اضافے کے ساتھ 1,223.95 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔

آبنائے ہرمز میں کشیدگی کا عالمی مارکیٹ پر اثرات

امریکی فوج کے مطابق اس نے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری آمدورفت کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایران کے ٹھکانوں پر نئے حملے کیے۔

اس کارروائی کے ردعمل میں ایران کی جانب سے کویت اور بحرین پر مبینہ حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے خطے میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔

اس کشیدگی نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ بندی کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچانے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے، جس کا فوری اثر جمعرات کو تیل کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں نظر آیا۔

امریکی مالیاتی پالیسی اور بینک آف امریکا کی پیش گوئی

عالمی مارکیٹ کے انڈیکس (سی ایم ای فیڈ واچ ٹول) کے مطابق ان حالات کے سبب ستمبر میں شرح سود میں مزید اضافے کا امکان 68 فیصد جبکہ جنوری 2027 تک اس میں اضافے کا امکان 87 فیصد تک ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اس سخت مالیاتی پالیسی کے پیش نظر بینک آف امریکا نے سال 2026 کے لیے سونے کی سالانہ اوسط قیمت کی پیش گوئی میں 14 فیصد کی بڑی کمی کر دی ہے، جس کے بعد اب 2026 میں سونے کی اوسط قیمت 4,360 ڈالر فی اونس رہنے کا امکان ہے۔

معاشی صورتحال

موجودہ عالمی معاشی منظرنامہ سرمایاکاروں کے لیے انتہائی پیچیدہ ہو چکا ہے۔ عام طور پر جنگی حالات اور جیو پولیٹیکل کشیدگی میں سونا ایک محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے اور اس کی قیمتیں بڑھتی ہیں، لیکن اس بار امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود کو طویل عرصے تک بلند رکھنے کے مضبوط امکانات نے سونے کی چمک کو مانند کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں:سونامزید کتنا مہنگا ہونے کا امکان ؟عالمی ماہرین کی پیشگوئی سامنے آگئی

جب شرح سود زیادہ ہوتی ہے، تو سرمایاکار بانڈز اور ڈالرز کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ سونے پر کوئی باقاعدہ منافع یا سود نہیں ملتا۔

مزید برآں ایران امریکا کشیدگی کی وجہ سے اگر تیل کی قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں، تو عالمی سطح پر سپلائی چین متاثر ہوگی اور مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا، جو مرکزی بینکوں کو سود کی شرحیں مزید بڑھانے پر مجبور کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ سونا فی الحال دباؤ کا شکار دکھائی دے رہا ہے۔

Related Articles