آج کی جدید اسپیشل آپریشنز فورسز کو اکثر ایسے یونٹس کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو روایتی طاقت سے زیادہ’’نظر نہ آنے‘‘ کی حکمت عملی پر انحصار کرتی ہیں۔ میدانِ جنگ اب صرف ہتھیاروں کا نہیں رہا، بلکہ یہ ایک ایسے ماحول میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں ہر حرکت، ہر سگنل اور ہر موجودگی کو مختلف سینسرز کے ذریعے ٹریک کیا جا سکتا ہے۔
اسی وجہ سے جدید فوجی یونٹس اپنی آپریشنل حکمتِ عملی میں کئی سطحوں پر چھپاؤ اور تحفظ کے طریقے استعمال کرتے ہیں۔ ان میں بصری چھپاؤ، آواز کو کم کرنا، اور الیکٹرانک نشانات کو محدود کرنا شامل ہوتا ہے تاکہ دشمن کے نگرانی نظام انہیں جلدی شناخت نہ کر سکیں۔
اس کے ساتھ ساتھ خصوصی مواد اور جدید آلات کا استعمال بھی کیا جاتا ہے جو جسمانی حرارت کے اثرات کو کم کرتے ہیں اور تھرمل یا انفراریڈ نگرانی سے بچاؤ میں مدد دیتے ہیں۔ یوں میدانِ جنگ میں موجودگی کو ہر ممکن حد تک غیر واضح رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
صرف جسمانی چھپاؤ ہی نہیں، بلکہ محفوظ کمیونیکیشن سسٹمز اور مشن سپورٹ ٹولز بھی اس حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہیں، تاکہ دشمن کسی بھی پیغام یا ڈیٹا کو انٹرسیپٹ نہ کر سکے۔ یہ تمام اقدامات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جدید جنگ اب صرف فائر پاور کا کھیل نہیں رہی۔
حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر اکثر ان ٹیکنالوجیز کے بارے میں مبالغہ آرائی بھی کی جاتی ہے، مگر مجموعی رجحان واضح ہے۔ دنیا کی فوجیں اب اس سمت میں جا رہی ہیں جہاں نظر آناخطرہ ہے، اور ’غائب رہنا‘ایک بڑی طاقت۔
اسی تناظر میں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا آنے والے وقت میں جنگیں زیادہ فائر پاور سے نہیں بلکہ اس بات سے جیتی جائیں گی کہ کون زیادہ بہتر طریقے سے چھپ سکتا ہے اور دشمن کی نظر سے بچ سکتا ہے؟ماہرین کے مطابق مستقبل کی جنگیں شاید اسی سمت جائیں جہاں برتری صرف طاقت نہیں بلکہ ویزبیلیٹی کنٹرول یعنی نظر آنے یا نہ آنے کی صلاحیت طے کرے گی