لائیو: ایران نے قطر میں امریکی ائیر بیس پر میزائل داغ دیئے

لائیو: ایران نے قطر میں امریکی ائیر بیس پر میزائل داغ دیئے

ویب ڈیسک: قطر کے دارالحکومت دوحہ میں زوردار دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جن کے بعد آسمان پر بلند ہوتے شعلے دیکھے گئے۔ غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق یہ دھماکے ممکنہ طور پر ایران کی جانب سے قطر میں واقع امریکی ایئر بیس پر چھ میزائل داغے جانے کے نتیجے میں ہوئے۔

رپورٹس کے مطابق، ایران نے قطر کے ساتھ ساتھ شام اور عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی میزائل حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ پیش رفت خطے میں پہلے سے جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے، تاہم دھماکوں کی شدت، ہدف کی نوعیت اور کسی ممکنہ جانی یا مالی نقصان سے متعلق تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔

دوسری جانب عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ دوحہ میں فضائی دفاعی نظام (ائیر ڈیفنس سسٹم) کو فوری طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور ایران کے داغے گئے میزائلوں کو روکنے کی کوشش کی گئی ہے۔

واقعے کے بعد قطر نے اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دی ہیں، جب کہ کئی بین الاقوامی ایئرلائنز نے قطر کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

تاحال مقامی حکام کی جانب سے واقعے کی باضابطہ تصدیق یا وضاحت سامنے نہیں آئی، اور آزاد ذرائع سے بھی اس کی مکمل تصدیق باقی ہے۔

مزید اطلاعات کے مطابق، ایرانی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے امریکہ کے خلاف آپریشن “بشارت الفتح” کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ ایرانی فورسز کا کہنا ہے کہ ان کی کارروائی امریکہ کی جانب سے ایرانی پُرامن جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے جواب میں کی گئی ہے۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ ردعمل امریکی جارحیت کا جواب ہے اور ایران اپنی خودمختاری کے دفاع میں کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی میڈیا کے مطابق، ایران کے حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سیچویشن روم میں موجود ہیں، جہاں ان کے ساتھ امریکی وزیر دفاع اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف بھی شریک ہیں تاکہ ممکنہ جوابی حکمت عملی پر مشاورت کی جا سکے۔

قطری حکومت نے بھی ایران کے حملے کے بعد جوابی کارروائی کا اعلان کر دیا ہے، جس سے خطے میں ممکنہ تصادم کے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔

ادھر بحرین کی وزارت خارجہ نے اپنے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پرسکون رہیں اور فوری طور پر محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو جائیں، تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بچا جا سکے۔

یہ حملہ خطے کے استحکام کےلئے خطرہ ہے، قطری وزارت دفاع

قطری وزارت دفاع نے ایرانی حملے کو خطے کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ قطری حکام کا کہنا ہے کہ تمام میزائل حملوں کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے کامیابی سے روک لیا گیا ہے، اور کسی بڑے نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

قطری حکام نے زور دیا ہے کہ تمام فریقین صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور اس تنازع کا سیاسی حل تلاش کریں تاکہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

سعودی عرب اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ کا ٹیلی فونک رابطہ

ایرانی سپریم سلامتی کونسل نے واضح کیا ہے کہ ایران کی جانب سے کیا گیا حملہ برادر ملک قطر کے خلاف نہیں تھا بلکہ یہ کارروائی خالصتاً امریکی جارحیت کے ردعمل میں کی گئی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران قطر کی خودمختاری اور علاقائی احترام کا مکمل خیال رکھتا ہے۔

ادھر مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی صورتحال کے تناظر میں سعودی عرب اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ کے درمیان ایک اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے، جس میں خطے میں جنگ کی ممکنہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے میزائل حملوں کے بعد وائٹ ہاؤس میں ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اجلاس میں ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں اور موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے، تاکہ آئندہ کے ممکنہ اقدامات پر غور کیا جا سکے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *