بھارت کی اسرائیلی ماڈل پر مبنی دفاعی پالیسی: جنوبی ایشیا کے امن کو خطرات لاحق

بھارت کی اسرائیلی ماڈل پر مبنی دفاعی پالیسی: جنوبی ایشیا کے امن کو خطرات لاحق

ویب ڈیسک ۔ اسرائیل کی جانب سے ایران پر حالیہ حملے نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا میں بھی دفاعی توازن کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ بھارت نے اس حملے سے واضح پیغام حاصل کرتے ہوئے اپنی دفاعی حکمت عملی میں اسرائیلی ماڈل کو اپنانا شروع کر دیا ہے، جو اس کے جنگی نظریے میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی “را” اور اسرائیلی خفیہ ادارے “موساد” کے درمیان بڑھتا ہوا انٹیلی جنس تعاون بھی اسی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے۔

آزادریسرچ ڈیسک کی تحقیق کے مطابق 2019 میں پلوامہ حملے کے بعد بھارت نے اسرائیل سے متاثر ہو کر پیشگی حملے کی حکمت عملی کو اپنایا۔ اسی پالیسی کے تحت بھارت نے بالاکوٹ میں فضائی حملہ کیا، جبکہ 2025 میں “آپریشن سندور” کے نام سے ایک اور جارحانہ قدم اٹھایا، جسے بزدلانہ حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے اسرائیل کی معاونت سے پاکستان کے خلاف مزید جارحیت کا ارادہ رکھتا ہے۔

پاکستان کی جانب سے جن خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے، ان میں بھارت کا اسرائیل سے جدید دفاعی ٹیکنالوجی، جدید AWACS سسٹمز، اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا حصول سرفہرست ہیں۔ بھارت کی پیشگی حملے کی پالیسی اور اسرائیلی ماڈل کی تقلید پورے خطے، بالخصوص جنوبی ایشیا کے امن اور استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

آزاد ریسرچ کے مطابق بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعاون 2015 سے 2025 کے درمیان غیر معمولی طور پر بڑھا ہے۔ اس دوران دونوں ممالک کے مابین اربوں ڈالر کے معاہدے طے پائے، جن میں جدید ہتھیاروں کی خریداری، مشترکہ دفاعی پیداوار، اور ٹیکنالوجی کا تبادلہ شامل ہے۔ یہ شراکت داری نہ صرف بھارت کی فوجی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے ہے، بلکہ اس کا مقصد دونوں ممالک کے مشترکہ سیاسی اور عسکری عزائم کا تحفظ بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل ‘چند دنوں’ میں ایران کیخلاف جنگ ختم کرنے کو تیار ہوگیا: اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ

آزادریسرچ ڈیسک کی تحقیق کے مطابق بھارت نے اسرائیل کے ساتھ بارک-8 طویل فاصلے کے فضائی دفاعی میزائل، اسپائیڈر ایئر ڈیفنس سسٹم، اسپائیک اینٹی ٹینک میزائل، ہیرون UAVs، اور ہاروپ ڈرونز جیسے جدید ہتھیاروں کے منصوبے مکمل کیے ہیں۔ فضائی برتری حاصل کرنے کے لیے بھارت نے اسرائیلی ٹیکنالوجی سے لیس EL/W-2090 ریڈار سسٹمز والے Phalcon AWACS طیارے بھی حاصل کیے، جو اسے کسی بھی فضائی خطرے کا بروقت اور مؤثر جواب دینے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔

علاوہ ازیں، بھارت کی بڑی دفاعی کمپنیاں جیسے HAL، بھارت فورج، ٹاٹا اور اڈانی گروپ، اسرائیلی اداروں کے ساتھ مل کر ڈرون، توپ خانے، گائیڈڈ گولہ بارود اور الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز کی مشترکہ پیداوار کر رہی ہیں، جس سے بھارت کی دفاعی خود انحصاری میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

ریسرچ کے مطابق بھارت نے روس سے S-400 فضائی دفاعی نظام خریدا، جبکہ اسرائیلی بارک-8 سسٹمز کو مقامی سطح پر تیار کیا گیا۔ ان نظاموں کو بری اور بحری پلیٹ فارمز پر نصب کیا گیا ہے۔ اسرائیل سے حاصل کردہ ہتھیار، جیسے ڈربی اور پائیتھن میزائل، اسپائس بم، اور مختلف ڈرونز، بھارت نے لائن آف کنٹرول پر بھی استعمال کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار کا جھوٹا بیانیہ عالمی سطح پر رَد ، پاکستانی مؤقف کی پذیرائی

بھارت کی دفاعی پالیسی اسرائیل تک محدود نہیں رہی۔ اس نے فرانس سے رافیل لڑاکا طیارے، روس سے S-400 سسٹم، اور امریکہ سے MQ-9B ڈرونز اور جدید میزائل سسٹمز حاصل کیے، جس سے بھارتی فوج کی جنگی تیاری کئی محاذوں پر بہتر ہوئی ہے۔ اسرائیلی، روسی اور فرانسیسی ٹیکنالوجی کے امتزاج نے بھارتی افواج کو مسلسل جدید اسلحہ فراہم کیا ہے۔

ریسرچ کے مطابق بھارت نے اسرائیل سے سائبر وارفیئر، ڈرون حملے، اور چہرے کی شناخت جیسے جدید ہتھیار اور تکنیک بھی سیکھ کر اپنی دفاعی حکمت عملی میں شامل کیے ہیں۔ اس کے جواب میں پاکستان نے بھی اپنی دفاعی تیاریوں میں تیزی لائی ہے، خصوصاً سائبر کمانڈ اور ڈرون ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے، تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا بروقت اور مؤثر جواب دیا جا سکے۔

آزادریسرچ ڈیسک کی تحقیق کے مطابق یہ تمام پیش رفت جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر رہی ہے۔ آئندہ کی جنگیں روایتی انداز میں نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی اور خاموش ڈرون حملوں پر مبنی ہو سکتی ہیں۔ پاکستان امن کو ترجیح دیتا ہے، مگر کسی بھی بھارتی جارحیت کی صورت میں شدید، مربوط اور فیصلہ کن جواب دینے کے عزم پر قائم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’مودی سرکار‘ کو اندراگاندھی کی 1975 کی ایمرجنسی سے بھی بدترین کیوں قرار دیا جا رہا ہے؟

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *