ایران نے ’آبنائے ہرمز‘ کے لیے نیا قانون تیار کر لیا

ایران نے ’آبنائے ہرمز‘ کے لیے نیا قانون تیار کر لیا

ایران نے دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ ’آبنائے ہرمز‘ کے حوالے سے ایک نیا اور سخت قانونی بل تیار کر لیا ہے۔ ایرانی مجلس (پارلیمنٹ) کے قومی سلامتی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بل پر کام مکمل ہو چکا ہے اور اسے جلد ہی حتمی منظوری کے لیے پیش کر دیا جائے گا۔

قانون سازی کا عمل اور منظوری

ابراہیم عزیزی کے مطابق ایرانی مجلس کی سرگرمیاں بحال ہوتے ہی اس بل کو اوپن سیشن میں بحث اور فوری منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کو آبنائے ہرمز کا انتظام کنٹرول کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،امریکی وزیر خارجہ

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ مجلس سے پاس ہونے کے بعد یہ بل ایرانی شورائے نگہبان (گارڈین کونسل) کو بھیجا جائے گا، جہاں سے توثیق ملتے ہی یہ باقاعدہ ملکی قانون بن جائے گا۔ اس قانون کے تحت آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت اور سیکیورٹی کے حوالے سے ایران کے اختیارات میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت

آبنائے ہرمز دنیا کی وہ حساس ترین آبی گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی سطح پر فروخت ہونے والے تیل کا تقریباً 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔

ایران ماضی میں کئی بار دھمکی دے چکا ہے کہ اگر اس کے مفادات کو نقصان پہنچایا گیا یا اس پر جنگ مسلط کی گئی تو وہ اس گزرگاہ کو بند کر سکتا ہے۔

حالیہ برسوں میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں کے تناظر میں یہ بل ایران کی جانب سے ایک ‘قانونی ہتھیار’ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

تہران کی نئی اسٹرٹیجک چال

اس قانونی بل کے پیچھے چھپے مقاصد اور اس کے ممکنہ اثرات  کا جائزہ لیا جائے تو ایران اس بل کے ذریعے عالمی طاقتوں کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر اپنی خود مختاری کو قانونی تحفظ دے کر وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں پر اپنی نگرانی سخت کر سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:آبنائے ہرمز میں ایک مرتبہ پھر کشیدگی ، امریکہ کا ایرانی جزیرے قشم پر حملہ، ایران نے میزائل داغ دئیے

امریکا اور ایران کے درمیان جاری حالیہ امن مذاکرات کے دوران اس طرح کی قانون سازی ایران کو ’پوزیشن آف سٹرینتھ‘ فراہم کرتی ہے، تاکہ وہ اپنی شرائط پر سودے بازی کر سکے۔

یہ قانون ایرانی بحریہ کو یہ حق دے سکتا ہے کہ وہ ’مشکوک‘ یا ’دشمن ممالک‘ کے جہازوں کو روکنے یا ان کی تلاشی لینے کے عمل کو قانونی جواز فراہم کر سکے۔ اگر اس بل کے ذریعے کسی قسم کی پابندی یا سخت شرائط عائد کی گئیں تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ ہو سکتا ہے۔

Related Articles