امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کے علاقے میں ایک بار پھر شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے۔ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے جواب میں ایرانی افواج نے میزائل فائر کرتے ہوئے مبینہ طور پر دشمن یونٹوں کو نشانہ بنایا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بندر عباس کے قریب قشم جزیرے میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ تہران میں فضائی دفاعی نظام کو فعال کردیا گیا ہے۔
ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق مغربی تہران میں فضائی دفاعی نظام کو متحرک کیا گیا ہے اور دشمن کے اہداف کا مقابلہ کیا جا رہا ہے۔ مہر خبر ایجنسی کے مطابق دفاعی نظام مسلسل کارروائی میں مصروف ہے۔
ایرانی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی ٹینکر پر مبینہ امریکی حملے کے بعد جوابی کارروائی کی گئی اور دشمن یونٹوں پر میزائل داغے گئے، جس کے نتیجے میں انہیں نقصان پہنچا اور وہ علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔
دوسری جانب بندر عباس اور قشم جزیرے میں دھماکوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ میزان خبر ایجنسی کے مطابق قشم میں دھماکوں کی آوازیں دراصل چھوٹے ڈرونز کو روکنے کے دوران فضائی دفاعی کارروائیوں کا نتیجہ تھیں۔
تسنیم خبر رساں ادارے کے مطابق بندر عباس میں فضائی دفاعی نظام نے دو ڈرونز کو مار گرایا، جبکہ تہران میں بھی دفاعی نظام کو مکمل طور پر فعال کردیا گیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق کشیدگی بڑھنے کے بعد جنوبی ایران میں شہریوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور فوج کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔