نریندر مودی حکومت نے بھارت کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ انالیسس وِنگ (R&AW) کے نئے سربراہ کے طور پر پراگ جین کی تقرری کا اعلان کیا ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کی غیر قانونی منسوخی کے دوران پاکستان کے خلاف تخریبی اور سازشی سرگرمیوں اور 2019 میں بالا کوٹ پر نام نہاد “سرجیکل اسٹرائیکس” اور “آپریشن سندور” جیسے واقعات میں ملوث رہنے والے پراگ جین کی تقرری مودی حکومت کی پاکستان کے خلاف ایک اور غیر ذمہ دارانہ مہم جوئی کی واضح علامت ہے۔
آزاد ریسرچ کے مطابق یہ سوچا سمجھا قدم بھارت کے ان مذموم عزائم کو بے نقاب کرتا ہے جن کا مقصد خطے کو غیر مستحکم کرنا، مصنوعی بحران پیدا کرنا، اور اپنے اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے تصادم کو ہوا دینا ہے۔
پراگ چین 1989 بیچ کے پنجاب کیڈر کے IPS افسر ہیں اور یکم جولائی سے روی سنہا کی جگہ لیں گے، جن کی مدتِ ملازمت غیر مؤثر کارکردگی کی بنیاد پر ختم ہو رہی ہے۔
پراگ جین کی تقرری محض ایک انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ بھارت کے بڑھتے ہوئے جارحانہ اسٹریٹیجک رجحان کی عکاسی کرتی ہے، خاص طور پر پاکستان اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے۔
پراگ جین نے اپنے کیریئر کا آغاز پنجاب میں دہشت گردی کے عروج کے دورمیں کیا، جہاں وہ بھٹنڈا، مانسا اور ہوشیارپور جیسے حساس علاقوں میں تعینات رہے۔ وہ ایس ایس پی چندی گڑھ اور DIG لدھیانہ بھی رہ چکے ہیں، جہاں انھیں زمینی سطح پر آپریشنل تجربہ حاصل ہوا۔
بطور انٹیلیجنس افسر، انھوں نے مقبوضہ کشمیر میں کئی حساس جگہوں پر کام کیا خصوصی طورپر مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے دوران اور بالاکوٹ حملے کے وقت سرگرم کردار ادا کیا ، بین الاقوامی سطح پر بھی وہ کینیڈا اور سری لنکا میں بھارت کی نمائندگی کر چکے ہیں۔
حال ہی میں ایوی ایشن ریسرچ سینٹر (ARC) کے سربراہ تھے جہاں وہ آپریشن سندور جیسے خفیہ مشن کی فضای نگرانی کر رہے تھے۔
اسٹریٹیجک پیغام یا خطرناک جارحیت؟
آزاد ریسرچ کے مطابق پاکستان مخالف کارروائیوں میں تجربہ رکھنے والے افسر کی تعیناتی ایک واضح پیغام ہے کہ بھارت اپنی خفیہ پالیسیوں کو مزید جارحانہ بنانے جا رہا ہے اور یہ فیصلہ کئی حالیہ واقعات کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے ،جن میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطل جس سے تعلقات مزید کشیدہ ہیں اور 22 اپریل 2025 کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی پیشگی اطلاع نہ دینا R&AW کی ناکامی سمجھی جا رہی ہے۔
ان حالات میں پراگ جین کا کردار نہایت اہم اور را کی پالیسی ممکنہ طور پر روایتی انٹیلیجنس سے ہٹ کر نفسیاتی جنگ پر مرکوز ہو گی۔
آزاد ریسرچ ڈیسک کے مطابق پراگ جین کی تقرری سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مودی حکومت اب خفیہ ایجنسیوں کو پالیسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے، انسانی ذرائع سے معلومات پر انحصار بڑھایا جا رہا ہے جبکہ سفارت کاری کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
ان کی تقرری سے کینیڈا میں خالصتان تحریک کے خلاف کارروائیاں وسیع ہو سکتی ہیں جس سے مذہبی و نسلی بنیادوں پر کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسی تقرریاں بھارت کے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے اور خارجی دشمنی کو بڑھاوا دینے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جس کا نتیجہ خطے میں مزید عدم استحکام ہو سکتا ہے۔