ایک طرف بھارت کی اکثریتی آبادی خالی پیٹ زندگی گزارنے پر مجبور ہے، تو دوسری جانب مودی سرکار نے اربوں روپے کے نئے 13 ہنگامی جنگی معاہدوں پر دستخط کر کے اپنی جارحانہ عسکری پالیسی کو واضح کر دیا ہے۔
بھارت کا جنگی جنون اور عوام کی محرومی
بھارت میں اس وقت 85 کروڑ افراد امدادی راشن پر گزر بسر کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود حکومت نے عوامی بہبود کو پس پشت ڈال کر جنگی ساز و سامان پر اربوں روپے خرچ کر دیے۔ یہ معاہدے فاسٹ ٹریک پروسیجر کے تحت کیے گئے ہیں، جن پر 2000 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔
یہ خبر بھی پڑھیں :چین کا بھارت کی معیشت پر ایک اور وار: خصوصی کھاد کی ترسیل بند، بھارت کی زراعت مفلوج
خریداری میں شامل مہلک ٹیکنالوجی
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، ان معاہدوں میں بھارت کی افواج کے لیے جن آلات کی خریداری کی جا رہی ہے، ان میں شامل ہیں
• انٹیگریٹڈ ڈرون ڈیٹیکشن اور انٹرسیپشن سسٹمز
• ہلکے ریڈار
• کم فاصلے پر مار کرنے والے فضائی دفاعی نظام
• ریموٹ کنٹرول سے چلنے والے ڈرون
• عمودی پرواز اور لینڈنگ والے ایئر کرافٹ
• جنگی گاڑیاں، نائٹ ویژن سائیٹس، بلٹ پروف جیکٹس، اور بیلسٹک ہیلمٹس
یہ تمام سامان بھارتی فوج کو جدید جنگی میدانوں میں تیاری کے نام پر فراہم کیا جائے گا۔
حالیہ شکستوں کے بعد جنگی جنون میں اضافہ؟
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب بھارت کو حال ہی میں پہلگام اور سندھور جیسے فوجی کارروائیوں میں پاکستان کے ہاتھوں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔
22 اپریل کو ہونے والے پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے پاکستان پر الزام تراشی کی، لیکن وہ تاحال کوئی قابلِ قبول ثبوت فراہم نہ کر سکا۔ اسی بنا پر شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس کے اعلامیے میں بھی بھارت اپنا موقف شامل کرانے میں ناکام رہا۔
یہ خبر بھی پڑھیں :انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، گلوبل ٹارچر انڈیکس میں بھارت خطرناک ملک قرار

