امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ اس کی افواج نے 27 جون کو ایران میں متعدد اہداف پر اضافی فضائی حملے کیے ہیں، یہ کارروائیاں امریکی صدر کی ہدایت پر کی گئیں۔
سینٹکام کے مطابق یہ حملے گزشتہ روز کی جانے والی امریکی کارروائیوں کے بعد کیے گئے، جو مبینہ طور پر ایرانی حملے کے جواب میں تھے جس میں بحری جہاز ایم/وی ایور لیولی کو نشانہ بنایا گیا تھا،بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کو جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کا موقع دیا گیا تھا تاہم اس نے مبینہ طور پر اس معاہدے کی خلاف ورزی جاری رکھی۔
امریکی دعوے کے مطابق آج صبح ساڑھے چار بجے (ایسٹرن ٹائم) کے قریب ایران کی جانب سے ایک یک طرفہ حملہ آور ڈرون کے ذریعے پاناما کے پرچم بردار آئل ٹینکر ایم/ٹی کیکو کو نشانہ بنایا گیا، جو آبنائے ہرمز کے قریب دو ملین سے زائد بیرل خام تیل لے کر گزر رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں :امریکہ نے ایران پر حملے شروع کر دئیے ، آبنائے ہرمز کے قریب جھڑپیں،متعدد اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں ،امریکی سینٹرل کمانڈ
سینٹکام نے کہا ہے کہ اس کے بعد امریکی افواج نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایران میں مختلف فوجی اور دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جن میں نگرانی کا نظام، مواصلاتی نظام، فضائی دفاعی مقامات، ڈرون ذخیرہ کرنے کے مراکز اور بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت سے متعلق تنصیبات شامل تھیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری جہازوں کی آمد و رفت بدستور جاری ہے، جبکہ امریکی افواج خطے میں چوکنا، بھرپور طاقت کے استعمال کے لیے تیار اور مسلسل نگرانی کی حالت میں ہیں۔
— U.S. Central Command (@CENTCOM) June 27, 2026

