پشاورہائیکورٹ نےادویات سکینڈل میں سابق ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ شوکت علی کے خلاف کاروائی روک دی ہے جبکہ متعلقہ اداروں کو اسے گرفتار اور ہراساں کرنے سے بھی روکتے ہوئے اس کے خلاف تمام ایف آئی آرز اور انکوائریز کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا۔
عدالت عالیہ نے محکمہ صحت کی جانب سے جاری شوکاز نوٹس پرمزید کاروائی روکتے ہوئے حکم امتناعی جاری کردیا ۔ جسٹس صاحبزادہ اسداللہ اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل ڈویژن بینچ نے حکومت سے جواب طلب کرلیاہے۔ پشاورہائیکورٹ میں سماعت کے موقع پر ڈاکٹر شوکت علی کے وکلاء شمائل بٹ اور بابر خان یوسفزئی نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل ریٹائرڈ ہوچکے ہیں لہذا ان کو شوکاز نوٹس جاری نہیں کیا جاسکتا ۔انھوں نے رول 54اے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ریٹائر افسر کے خلاف انکوائری نہیں کرسکتی اورنہ ہی شوکاز نوٹس جاری کرسکتی ہے۔انھوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ڈپیارٹمنٹ اپنے ملازمین کو شوکاز نوٹس جاری کرتا ہے کسی افسر کو ریٹائیرمنٹ کے بعد شوکازنوٹس جاری کرنا غیرقانونی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ان کے موکل کو وزیراعلی کے حکم پر بلاجواز انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے ان پرعائد الزامات بے بنیاد ہیں۔ ڈاکٹر شوکت علی نے خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے خلاف کی گئی محکمانہ کارروائیاں بدنیتی پر مبنی اور غیرقانونی ہیں کیونکہ یہ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد کی گئیں۔ درخواست کے مطابق ڈاکٹر شوکت علی کے خلاف کئی انکوائریاں کی گئیں جن میں ایک نئی انکوائری کمیٹی 5 ستمبر 2024 کو تشکیل دی گئی اور 9 ستمبر 2024 کو چارج شیٹ جاری کی گئی تاہم درخواست گزار کو نہ تو الزامات سے متعلق مکمل دستاویزات دی گئیں اور نہ ہی دفاع کا موقع فراہم کیا گیا، درخواست گزار نے کئی بار انکوائری کمیٹی سے دستاویزات مانگیں لیکن کمیٹی نے مبینہ طور پر وزیر اعلیٰ کے دباؤ پر انکار کر دیا اور کارروائی کو آگے بڑھایا۔
درخواست گزار نے اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق جواب جمع کرایا اور 31 مارچ 2025 کو کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے تاہم کارروائی محض رسمی نوعیت کی تھی اور انہیں خود کا دفاع کرنے کا حقیقی موقع نہیں دیا گیا۔ بعد ازاں انکوائری کمیٹی نے وزیر اعلیٰ کی ایما پر انتقامی رپورٹ تیار کی جس میں سروس سے برخاستگی اور ریکوری کی سفارش کی گئی اس سفارش پر مبنی برطرفی کا نوٹس 12 جون 2025 کو جاری کیا گیا جبکہ ڈاکٹر شوکت علی 9 جون 2025 کو ریٹائر ہو چکے تھے۔ درخواست گزار نے مؤقف اپنایا ہے کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد سول سرونٹ نہیں رہے اور ان پر محکمانہ قواعد لاگو نہیں ہوتے لہٰذا ان کے خلاف کی گئی کارروائی غیر قانونی ہے اور آئین پاکستان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان کے خلاف ہونے والی انکوائری اور برطرفی کے احکامات کو کالعدم قرار دیا جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انکوائری کمیٹی نے شفاف اور منصفانہ کارروائی کے بغیر برطرفی کی سفارش کی اور متعلقہ افسر نے بغیر کسی عدالتی سوچ کے اُسی سزا کو منظور کیا۔ حیران کن طور پر، شوکاز نوٹس ڈاکٹر شوکت علی کو اُس وقت جاری کیا گیا جب وہ 9 جون 2025 کو ریٹائر ہو چکے تھے، جبکہ نوٹس 12 جون کو جاری کیا گیا۔
درخواست کے مطابق 257 صفحات اور 52 ضمیموں پر مشتمل انکوائری رپورٹ میں سے صرف 84 صفحات فراہم کیے گئے اور مکمل رپورٹ یا متعلقہ دستاویزات آج تک نہیں دی گئیں۔ یہ عمل اصولِ قدرتی انصاف اور قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ڈاکٹر شوکت علی نے ان کارروائیوں کو غیر قانونی، غیر منصفانہ اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد کارروائی کرنا رول 54-اے کے خلاف ہے جو بنیادی قوانین اور اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کے مطابق درست نہیں۔اسی طرح عدالت نے شوکت علی کی جانب سے اسکے خلاف درج ایف آئی آرز اور انکوائریز سے معلومات کی فراہمی کے لئے دائر رٹ پر حکومت کو اسے گرفتار اور ہراساں کرنے سے روک دیا۔ عدالت عالیہ نے حکومت سے درخواست گزار کے خلاف درج ایف آئی آرز کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔