وفاقی وزیراطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے ایک اہم مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نئے مالیاتی بجٹ کی ترجیحات اور حکومتی معاشی اقدامات کی تفصیلات جاری کی ہیں۔
وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کے فعال افراد اور ڈیجیٹل میڈیا انفلوئنسرز کو بجٹ کے حوالے سے براہِ راست بریفنگ دینا اس لیے ضروری تھا تاکہ حکومتی معاشی اصلاحات اور بجٹ کی اصل ترجیحات کو بغیر کسی ابہام کے درست انداز میں عوام تک پہنچایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم نے بچت اور کفایت شعاری کیلئے عملی حکمت عملی بنانے کے لئے متعلقہ حکام کو 48 گھنٹوں کی مہلت دی ہے، عطا اللہ تارڑ
وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ ملک کے موجودہ معاشی چیلنجز کے باوجود ایک ایسا بجٹ تیار کیا گیا ہے جو عام آدمی کو ریلیف فراہم کرتا ہے اور اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ٹیکس نہ دینے والوں کا بوجھ پہلے سے ٹیکس دینے والے ایماندار شہریوں پر نہیں ڈالا گیا۔
مسلم لیگ ن کا معاشی ٹریک ریکارڈ اور آئی ایم ایف معاملات
عطا اللہ تارڑ نے پریس کانفرنس کے دوران ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی ملک مشکل معاشی حالات کا شکار ہوا، مسلم لیگ ن کی قیادت نے ہمیشہ آگے بڑھ کر معیشت کو سنبھالا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے چنگل سے ہمیشہ مسلم لیگ ن کی حکومتوں نے ہی نجات دلائی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ پروگرام کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف نے ذاتی دلچسپی اور انتھک کوششوں سے آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے کیے۔
گزشتہ 2 سال کے دوران حکومت کو پیٹرولیم، توانائی اور سبسڈیز کے حوالے سے کئی انتہائی مشکل اور کڑوے فیصلے کرنے پڑے، لیکن انھی کاوشوں کی بدولت آج ملک میں معاشی استحکام لوٹ آیا ہے اور حکومت اب اس پوزیشن میں ہے کہ عوام کو ریلیف منتقل کر سکے۔
ٹیکس نیٹ میں توسیع، اصلاحات اور تنخواہ دار طبقے کو بڑا ریلیف
وزیراطلاعات نے اداروں میں شفافیت اور ٹیکس چوری کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ پورٹس، انکم ٹیکس اور ایف بی آر جیسے اہم اداروں میں کرپشن کی روک تھام کو سختی سے یقینی بنایا گیا ہے۔
انفورسمنٹ اور سخت نگرانی کے ذریعے گزشتہ 1 سال کے دوران ریکارڈ 800 ارب روپے اکٹھے کیے گئے ہیں، جبکہ صرف شوگر ملوں سے 60 ارب روپے کا ٹیکس وصول کیا گیا ہے۔ اب چینی کی صنعت میں شفافیت کے لیے ہر بوری پر بارکوڈ لگانا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ ٹیکس وصولی اور کمپنیوں کے مابین دیرینہ تنازعات کے فوری حل کے لیے نئے عدالتی ٹربیونلز قائم کر دیے گئے ہیں۔
عوام کو ملنے والے ریلیف کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 50000 روپے سے کم ماہانہ تنخواہ لینے والے افراد کو ٹیکس سے مکمل مستثنیٰ کر دیا گیا ہے۔ 50000 سے 100000 روپے تک تنخواہ لینے والوں پر محض 1 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔
مزید پڑھیں:وزیراعظم نے بچت اور کفایت شعاری کیلئے عملی حکمت عملی بنانے کے لئے متعلقہ حکام کو 48 گھنٹوں کی مہلت دی ہے، عطا اللہ تارڑ
ہاؤسنگ سیکٹر کو فروغ دینے کے لیے 5 مرلے کا پلاٹ یا گھر خریدنے اور بیچنے والوں کے لیے ٹیکسوں میں نمایاں کمی کر دی گئی ہے۔ آئی ٹی کمپنیوں کو خصوصی رعایات دی گئی ہیں تاکہ وہ اپنے مالیاتی معاملات کو درست کر کے برآمدات بڑھا سکیں۔
’اپنا گھر منصوبہ‘ اور صنعتی پہیے کی روانگی
حکومتی ہاؤسنگ اسکیم کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ ’اپنا گھر منصوبے کے لیے کل 90 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، جن میں سے 11 ارب روپے کی رقم لوگوں کو جاری کی جا چکی ہے۔
ہاؤسنگ اور تعمیراتی شعبے میں اس تیزی کی وجہ سے ملک کی مزید 12 وابستہ صنعتوں کا پہیہ چل پڑا ہے جس سے روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب برآمد کنندگان (ایکسپورٹرز) زیادہ منافع کمائیں گے، تو وہ ملک میں مزید نئی صنعتیں قائم کرنے کی طرف راغب ہوں گے۔
یوتھ پیکیج، زراعت اور بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام کے لیے اربوں روپے مختص
اس موقع پر وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بجٹ کے تکنیکی اور فلاحی پہلوؤں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ بنیادی طور پر صنعتکاروں، برآمد کنندگان، خواتین اور نوجوانوں کے لیے ایک متوازن ریلیف پیکیج ہے۔
حکومت پائیدار بنیادوں پر معاشی استحکام کو برقرار رکھنا چاہتی ہے، جس کے لیے کاروباری طبقے کو سہولتیں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کسٹمز اور دیگر شعبوں میں 5 ارب روپے کی ڈیوٹی ختم کر کے براہِ راست ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔
صنعت اور فلاحی بہبود کے لیے بجٹ مختص کی تفصیلات کچھ یوں ہیں۔
فلاحی و معاشی شعبہ |
مختص کردہ بجٹ کی رقم |
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) |
838 ارب روپے |
وزیراعظم یوتھ پیکیج (زرعی قرضے) |
110 ارب روپے |
اپنا گھر ہاؤسنگ منصوبہ (کل حجم) |
90 ارب روپے |
ڈیوٹی کی مد میں دیا گیا کل ریلیف |
5 ارب روپے |

