ماں کالی کی برکت سے آپریشن سندور میں کامیابی ملی، بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کا دعویٰ

ماں کالی کی برکت سے آپریشن سندور میں کامیابی ملی، بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کا دعویٰ

ویب ڈیسک ۔ بھارت کے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ بھارتی فوج کو آپریشن سندور کے دوران “ماں کالی” کی برکت حاصل ہوئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارتی فورسز نے پاکستان میں نو دہشت گرد کیمپ تباہ کیے، حالانکہ پاکستان نے اس کے برعکس شواہد فراہم کیے کہ بھارتی حملے عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے۔

راجناتھ سنگھ نے یہ متنازع بیان بدی کالی جی مندر میں خطاب کے دوران دیا، جہاں انہوں نے مزید کہا کہ خواتین فوجی اہلکاروں نے بھی آپریشن میں حصہ لیا اور دعویٰ کیا کہ “مہاکالی کے ایک روپ نے دشمنوں کو شکست دی۔”

پاکستانی حکومت پہلے ہی آپریشن سندور کے بھارتی دعووں کو مسترد کر چکی ہے اور انہیں محض داخلی سیاسی فائدے کے لیے کشیدگی بڑھانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

راجناتھ سنگھ اور بی جے پی کے دیگر اعلیٰ رہنما اس وقت سیاسی بیانیہ قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ عوام کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ آپریشن سندور کے دوران بھارت کو کوئی بڑا نقصان نہیں اٹھانا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان سے زلت آمیز شکست کے بعد بھارتی سیاسی قیادت حواس باختہ،اجیت ڈوول نے عالمی میڈیا کو جھوٹا قراردے دیا

راجناتھ سنگھ نے اپنی تقریر میں مسلسل مذہبی حوالوں کو بھارتی جارحیت کے جواز کے طور پر پیش کیا اور اسے “الہٰی مدد” قرار دیا۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بھارتی مسلح افواج میں “زَعفرانی اثرات” (saffronization) کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق، فوجی اہلکاروں کی مندروں میں حاضری، مذہبی رسومات جیسے “شستر پوجا” (ہتھیاروں کی پوجا) میں شمولیت، اور ان سرگرمیوں کا سیاسی استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔

ذرائع نے آزاد ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، “مذہب، سیاست اور پیشہ ورانہ عسکری رویے کے درمیان حدیں مٹتی جا رہی ہیں۔ فوجی تناظر میں مذہبی علامات کا استعمال، دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے سپاہیوں کو الگ تھلگ کر سکتا ہے۔”

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان بیانات اور اقدامات سے بھارت کی فوج کو ایک غیر جانبدار اور آئینی ادارے کے بجائے ہندوتوا قوم پرستی کے آلے میں تبدیل کرنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی حکام کی پاکستان فضائیہ کے مقابلے میں انڈین ائیر فورس کے نقصانات کی تصدیق

پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ بیانات اور اقدامات بی جے پی حکومت کی ایک بڑی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہیں، خاص طور پر انتخابات سے قبل، اور اس کا مقصد مذہبی شناخت کو عسکری رنگ دینا اور خطے میں کشیدگی کو بڑھانا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *