’’بھوک لگی ہے تو کھانا دے سکتے ہیں، لیکن ووٹ نہیں‘‘، بی جے پی کوعوام کا دوٹوک جواب

’’بھوک لگی ہے تو کھانا دے سکتے ہیں، لیکن ووٹ نہیں‘‘، بی جے پی کوعوام کا دوٹوک جواب

بھارتی ریاست تامل ناڈو میں نریندر مودی کی بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی) انتہائی مشکل میں پھنس گئی ہے، لگتا ہے کہ مودی سرکار کے اقتدار کا سورج غروب ہونے کو ہے، عوام نے ’بی جے پی‘ کو ووٹ دینے سے صاف انکار کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بی جے پی کی مسلم مخالف پالیسیوں پر واشنگٹن پوسٹ کی چشم کشا رپورٹ، سنگین انکشافات سامنے آ گئے

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر تامل ناڈو میں ’بی جے پی‘ کی ایک میٹنگ کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے، جس میں ’بی جے پی‘ کے لیے عوامی ہمدردی اور انتخابی حمایت کے درمیان ایک واضح فرق سامنے آیا ہے۔

میٹنگ کے دوران بی جے پی کا ایک سیاسی کارکن ریاستی صدر سے کہہ رہا ہے کہ ’ سر، یہاں لوگ کہتے ہیں ‘اگر تمہیں بھوک لگی ہو تو ہم کھانا دے سکتے ہیں، لیکن ووٹ نہیں دیں گے‘۔ ریاستی صدر نے صرف مسکرا کر جواب دیا گویا وہ اس حقیقت کو تسلیم کر رہے ہوں۔

یہ سادہ مگر پر اثر جملہ بی جے پی اور اس کے اتحادی ’اے آئی اے ڈی ایم کے‘کے لیے ایک بڑی سیاسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس کا مطلب یہ لیا جا رہا ہے کہ تامل ناڈو کے عوام دل کے نرم ہو سکتے ہیں، لیکن نظریاتی طور پر وہ ہندوتوا سیاست سے متفق نہیں ہیں۔

سوشل میڈیا پر تامل ناڈو سے تعلق رکھنے والے صارفین بی جے پی کے رویے پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں، جس میں کہا جا رہا ہے کہ تامل ناڈو کی بی جے پی اقتدار کے لیے کسی کے بھی آگے جھک جائے گی، ہماری فلاح یا ووٹ ان کے لیے اہم نہیں، یہ سب سے بدتر غدار ہیں‘۔ ایک صارف لکھتا ہے کہ تامل ناڈو کی تہذیب ہمیشہ قائم رہنی چاہیے ’بی جے پی‘ کے دل جلنے چاہییں یہ دیکھ کر‘۔

مزید پڑھیں:بی جے پی کی انتخابات میں دھاندلی کی سازش بے نقاب، ووٹر لسٹ سے لاکھوں شہریوں کو نکالنے کا منصوبہ

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان تامل ناڈو کے ووٹروں کی اس سوچ کو ظاہر کرتا ہے جہاں انسانیت اور سیاسی وفاداری کو الگ الگ رکھا جاتا ہے۔ کسی بھوکے کو کھانا دینا اخلاقی فرض ہے، لیکن ووٹ دینا ایک نظریاتی فیصلہ ہے۔

بی جے پی کی اندرونی میٹنگ میں سچائی سے کہا گیا یہ جملہ  ’ہم تمہیں کھانا دے سکتے ہیں، لیکن ووٹ نہیں‘ اس بات کو آشکار کرتا ہے کہ تامل ناڈو میں بھارتیا جنتا پارٹی کی انتہا پسندانہ سوچ کے باعث ان کے لیے زمین پر عوامی حمایت حاصل کرنا کتنا بڑا چیلنج ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *