بھارت کی سپریم کورٹ نے معروف کارٹونسٹ ہیمنت مالویہ کو گرفتاری سے عبوری تحفظ دینے سے انکار کر دیا، جسے ملک میں فنکاروں اور اختلاف رائے رکھنے والی آوازوں کے لیے ایک خطرناک پیغام سمجھا جا رہا ہے۔
ہیمنت مالویہ کی درخواست مسترد ہونے سے اختلافِ رائے کو دبانے اور بھارتی عدلیہ میں ہندو قوم پرست نظریات کے بڑھتے اثر و رسوخ پر بین الاقوامی تشویش میں بھی اضافہ ہوا ہے جبکہ دوسری جانب یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب بھارت میں اظہارِ رائے کی آزادی پر پابندیوں اور انتہا پسند ہندو نظریات کے بڑھتے اثرات پر عالمی برادری کی تشویش میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
ہیمنت مالویہ پر الزام ہے کہ انہوں نے کووڈ 2019 کے دوران ایک طنزیہ کارٹون کے ذریعے وزیراعظم نریندر مودی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس ) کی توہین کی، جس پر ان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا گیا۔
انہوں نے گرفتاری سے بچنے کے لیے قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست دی تھی، لیکن عدالت نے نہ صرف درخواست مسترد کی بلکہ انہیں ایک دن کے لیے بھی گرفتاری سے تحفظ دینے سے انکار کر دیا۔
بھارتی عدالت کا اشارہ
سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے بینچ نے ریمارکس دیے کہ ’یہ آزادی اظہار کا غلط استعمال ہے جو یہ کارٹونسٹ اور اسٹینڈ اپ کامیڈین کر رہے ہیں‘۔ عدالت کے ریمارکس ایک واضح اشارہ کہ عدالت اس قسم کی تنقیدی یا طنزیہ کنٹنٹ کو آئینی حق کے تحت تحفظ فراہم کرنے کو تیار نہیں ہے۔
ہیمنت مالویہ کا مؤقف ہے کہ یہ کارٹون کووِڈ-19 وبا کے دوران شائع ہوا، جب ویکسین سے متعلق عوام میں شدید اضطراب اور غلط معلومات پھیل رہی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کارٹون ایک تخیلاتی سیاسی منظر کو طنز کے انداز میں پیش کرتا ہے، جس کا مقصد عوامی پالیسیوں پر تنقید تھا، نہ کہ کسی شخصیت کی تذلیل تھی۔
ان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یہ کارٹون گزشتہ 4 سال سے سوشل میڈیا پر عام طور پر گردش میں ہے اور اس پر کسی نے اعتراض نہیں اٹھایا، لیکن اب اسے سیاسی انتقام کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔
اس سے پہلے 3 جولائی کو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے بھی ہیمنت مالویہ کی درخواست ضمانت کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ’آزادی اظہار کا غلط استعمال کیا‘ اور ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا۔
ہیمنت مالویہ کے خلاف مقدمہ آزادی اظہار رائے کے لیے بڑا خطرہ
ہیمنت مالویہ کے ساتھ ہونے والا سلوک بھارت میں ایک بڑے خطرے کی نشاندہی کرتا ہے، وہاں اختلافی آوازوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور فنکاروں، صحافیوں اور سماجی ناقدین کے لیے جگہ تنگ کی جا رہی ہے۔ آر ایس ایس جیسے انتہا پسند ہندو نظریات رکھنے والے ادارے بھارت کے سیاسی و عدالتی نظام پر گہرا اثر ڈال چکے ہیں۔
آزاد آوازیں خاموش کی جا رہی ہیں
مبصرین کے مطابق یہ واقعہ صرف ایک کارٹونسٹ کا نہیں بلکہ یہ بھارت کے اس چہرے کو بے نقاب کرتا ہے جو دنیا کو تو جمہوری اور سیکولر نظر آتا ہے، لیکن اندر سے انتہا پسندی، خوف اور پابندیوں سے بھرا ہوا ہے۔
آج کے بھارت میں اگر آپ حکومت پر تنقید کریں، سوال پوچھیں یا فن کے ذریعے سچ دکھائیں، تو آپ کو جیل بھیجا جا سکتا ہے۔ کیا یہی ہے دنیا کی ’سب سے بڑی جمہوریت‘؟
عالمی برادری کی خاموشی خطرناک ہے
بھارت میں ’آر ایس ایس ‘ جیسی انتہا پسند تنظیمیں صرف سیاست پر نہیں، بلکہ عدلیہ اور میڈیا پر بھی اثرانداز ہو رہی ہیں۔ اقلیتوں، فنکاروں، صحافیوں اور اختلاف رکھنے والوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اگر دنیا نے اب بھی خاموشی اختیار کی، تو یہ صرف بھارت نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آج بھارت ایک ایسا ملک بنتا جا رہا ہے جہاں جمہوریت صرف ایک دکھاوے کی چیز رہ گئی ہے۔ اقلیتوں، فنکاروں اور سیاسی مخالفین کے لیے نہ تو مذہبی آزادی ہے اور نہ اظہارِ رائے کی آزادی ہے۔
عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت کی اس خطرناک سمت کا نوٹس لے۔ اگر دنیا بھر میں جمہوریت کے اصولوں کا دفاع کرنا ہے تو بھارت جیسے خود کو جمہوری کہنے والے مگر آمرانہ طرز عمل اپنانے والے ممالک پر آواز اٹھانی ہو گی۔