نیا بھارت! سکول کے بچے پوجا میں بی جے پی اور آر ایس ایس رہنماؤں کے پاؤں دھونے پر مجبور

نیا بھارت! سکول کے بچے پوجا میں بی جے پی اور آر ایس ایس رہنماؤں کے پاؤں دھونے پر مجبور

بھارت کے ایک سکول میں بچوں کو ‘گرو پد پوجا’ کی رسم کے دوران بی جے پی اور آر ایس ایس کے رہنماؤں کے پاؤں دھونے پر مجبور کرنے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑادی ۔

بھارت کے کیسرگڑھ  کے بندڈکا میں ایک اسکول میں ریکارڈ کی گئی ایک وائرل ویڈیو نے وسیع پیمانے پر غم و غصہ اور سیاسی تنقید کو جنم دیا ہے۔

اس ویڈیو میں اسکول کے بچے ایک تقریب میں حصہ لیتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں جسے “گروپد پوجا” کہا جاتا ہے، جس میں طلباء کو صرف اپنے اساتذہ کے نہیں بلکہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے رہنماؤں کے پاؤں بھی دھوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

آر ایس ایس سے وابستہ  پرائیویٹ اسکولوں میں گرو پُورنیما کی تقریبات کے دوران طلباء کو بتایا گیا کہ وہ نہ صرف اپنے اساتذہ کے پاؤں دھوئیں بلکہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے رہنماؤں کے پاؤں بھی دھوئیں۔

اس عمل پر وسیع پیمانے پر عوامی غم و غصے کا اظہار سامنے آیا  اور بہت سے افراد نے اسے ذات پات کی بنیاد پر روایات کو معمول بنانے اور سیاسی ذہن سازی کی ایک  تشویشناک کوشش قرار دیا ہے۔

حیران کن طور پر کیرالہ کے گورنر راجندر وشوناتھ ارلیکَر نے اس رسم کا دفاع کرتے ہوئے اسے بھارتی ثقافت کا حصہ قرار دیا ہہے اور بچوں کے سیاست دانوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے اور ان کے پاؤں دھونے کی توجیہ پیش کی ہے۔

اس بے بنیاد وضاحت پرانہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ یہ طلباء کی عزت نفس سے محرومی کا باعث بنتا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ تعلیم، سیاست اور قدیم ذات پات کے تصورات کے درمیان سرحدوں کو مٹایا جا رہا ہے۔

یہ تقریب بھارتیہ ودیا نیکیتن (بی وی این) سے جڑے کئی پرائیویٹ اسکولوں میں گرو پُورنیما کے دوران منعقد کی گئی تھی، جو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی تعلیمی شاخ ودیا بھارتی کی تعلیمی فلسفے پر عمل پیرا ہے ، اس رسم پر بہت سے لوگوں نے پرانی اور ذات پات کے نظریات پر مبنی سوچ قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی تاہم یہ بات اس وقت شدت اختیار کر گی جب یہ بات سامنے آئی کہ طلباء کو نہ صرف اپنے اساتذہ کے پاؤں دھونے پر مجبور کیا گیا بلکہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے رہنماؤں کے بھی پاؤں دھلوائے گئے۔

ذرائع کے مطابق “گروپد پوجا”  ایک ہندو رسم ہے جس میں عقیدت مند اپنے ‘گرو’ کے پاؤں دھوتے ہیں تاکہ احترام اور شکرگزاری کا اظہار کیا جا سکےاور یہ روحانی اساتذہ کو عزت دینے کے لیے کی جاتی ہے لیکن اس معاملے میں، طلباء کو بی جے پی اور آر ایس ایس کے رہنماؤں کے پاؤں دھونے پر مجبور کیا گیا جس نے ایک مقدس روایت کو سیاسی شو میں بدل دیا، جس کی عوام کی جانب سے بھرپور مذمت کی گئی۔

سوشل میڈیا پر ایک وائرل پوسٹ میں لکھا گیا: “ایک برہمنانہ ذات پات کی رسم! کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے غلام بن کر بڑے ہوں؟”۔

خیال رہے کہ بھارت میں ذات پات کے نظام نے معاشرے میں بہت سی خرابیاں پیدا کی ہیں،  اس کی ایک مثال  ضلع بناسکنٹھا کے ایک 19 سالہ دلت نوجوان کی اندوہناک موت تھی جس میں مبینہ طور پر پانچ اعلیٰ ذات کے مردوں نے اس دلت نوجوان کو اپنے سے مماثلت رکھنے والے لباس پہننے کی وجہ سے تشدد کا نشانہ بنایا  اور اس طرح ذلیل کیے جانے کے بعد اس نوجوان نے خودکشی کر لی۔

پولیس نے ملزمان کے خلاف متعلقہ قانونی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

یہ خبربھی پڑھیں :مودی کا بھارت،انتہاپسندوں کا مرکز،اقلیتوں کے لیے جہنم،ہمسایوں کے لیے خطرہ

اسی طرح  گجرات کے کچ سے ایک اور چونکا دینے والا واقعہ سامنے آٰیا جہاں ایک مقامی مندر میں جانے والے ایک دلت نوجوان کو ذات پات کی بنیاد پر شدید تذلیل کا نشانہ بنایا گیا ، اس کے وہاں جانے کے بعد مندر کے ارکان نے مبینہ طور پر کہا کہ مندر کو اب “پاک” کرنا پڑے گا، اس واقعے میں مبینہ طور پر نوجوان کو اپنے جوتے چاٹنے پر مجبور کیا گیا اور پولیس سے رجوع کرنے کی ہمت کرنے پر اسے سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی۔

بھارت میں ذات پات پر تذلیل کے ایسے بے شمار واقعات نے عوام میں غصے کی لہر دوڑا دی ہے  جو آج بھی ہندوستان کے کچھ حصوں میں ذات پات کی بنیاد پر ہونے والے ظلم کے جاری ظلم کو اجاگر کرتا ہے۔

مودی کے بھارت میں ذات پات کے تعصبات اس قدر رچ بس چکے ہیں اور اب بظاہر نوجوان بچوں میں منتقل کیے جا رہے ہیں، جس سے یہ خدشہ ہے کہ  یہ تفرقات ،امتیازی سلوک  بہت کم عمری میں اسکولوں میں رسومات اور روایات کے ذریعے بچوں کے لیے معمول بن جائیں گے، یہ عمل نہ صرف سماجی تفریق کو فروغ دیتا ہے بلکہ ایک نسل کے ذہنوں کو جکڑنے کی کوشش کرتا ہے جو ان کے سوچنے اور برتاؤ میں دیرپا اثرات ڈال سکتا ہے۔

اسکول کے اس واقعے پرعوامی غصہ کو مدنظر رکھتے کیرالہ کے وزیرِ تعلیم وی شنکوتھی نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور کیرالہ اسٹیٹ کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (KSCPCR) نے بھی اس پر نوٹس لیتے ہوئے سوموٹو کیس درج کیا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسی روایات دراصل ثقافتی اقدار کے پردے میں غلامی کو جواز دینے کے مترادف ہیں،  سوشل میڈیا پر غم و غصہ اور شدید الفاظ میں تنقید عوامی جذبات کی عکاس ہیں ۔

ایک سوشل میڈیا صارف نے سوال اٹھایا کہ  “کیا ہم بچوں کو بھارتی ثقافت کے نام پر غلامی کا ذہنیت سکھا رہے ہیں؟ ہمارے بچوں نے یہ سب کر کے مہمانوں سے دعائیں حاصل کیں! پاگل پن ہے!”

ادھر مخالفت کے باوجود کیرالہ کے گورنر راجندر وشوناتھ ارلیکَر نے اس عمل کا دفاع کرتے دعویٰ کیا کہ بچوں کا بزرگوں اور سیاسی شخصیات کے پاؤں دھونا اور ان کے سامنے گھٹنے ٹیکنا بھارتی روایات کا حصہ ہے۔

ایس ایف آئی کے ریاستی صدر ایم شیوپرساد نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ شدید مذمت اور قانونی کارروائی کا متقاضی ہے، کیونکہ یہ کیرالہ میں آر ایس ایس کی حمایت یافتہ چتور ورنیا نظام کو نافذ کرنے کی کوشش کو ظاہر کرتا ہے۔”

اس دوران، بندڈکا اسکول کی ہیڈمسٹریس پی ٹی اومّا نے اس تنازعے کے بعد واقعے کے مقصد کی وضاحت کی مگر کئی لوگوں کے لیے تب تک نقصان ہو چکا تھا۔

اس  رسم نے آر ایس ایس سے وابستہ ان سکولوں میں کون سے اقدار کو فروغ دیا جا رہا ہے اس پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *