پاکستان کا شکریہ! گیند اب امریکا کی کورٹ میں ہے، ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف

پاکستان کا شکریہ! گیند اب امریکا کی کورٹ میں ہے، ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف

پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں ایرانی وفد کے سربراہ ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ’تہران نے 21 گھنٹے کے مذاکرات میں نیک نیتی کے ساتھ شرکت کی، تاہم مخالف فریق کا رویہ غیر اطمینان بخش رہا، مستقبل پر مبنی تجاویز پیش کیں مگر واشنگٹن اعتماد سازی میں ناکام رہا، اب فیصلہ امریکا کو کرنا ہے، پاکستان کی میزبانی اور 9 کروڑ ایرانی عوام کی حمایت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے لکھا کہ ’ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے 21 گھنٹے طویل اعصاب شکن مذاکرات کے بعد واضح کرتے ہیں کہ فریقین کے درمیان اعتماد کا گہرا فقدان ابھی بھی کسی بڑی پیش رفت کی راہ میں حائل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ناممکن کو ممکن کردکھایا! ایران امریکا ایک میز پر ، دنیا میں پاکستان کی مداح سرائی پر بھارتی میڈیا کی چیخیں

محمد باقر قالیباف کی جانب سے جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا کہ تہران نے ان مذاکرات میں ’نیک نیتی اور عزم‘ کے ساتھ شرکت کی، لیکن ماضی کی جنگوں اور تلخ تجربات نے ایرانی فریق کو انتہائی محتاط اور مخالف کے رویے سے غیر مطمئن رکھا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ ایرانی وفد کے اراکین، نے مذاکرات کے دوران مستقبل کے حوالے سے جامع تجاویز پیش کیں، تاہم ایرانی حکام کے مطابق یہ کوششیں امریکی وفد کا اعتماد حاصل کرنے یا ان سے ٹھوس ضمانتیں لینے میں زیادہ کامیاب نہ ہو سکیں، جس کے باعث مذاکرات کے اس دور میں محض محدود پیش رفت ہی ممکن ہو سکی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ اب امریکا کو ثابت کرنا ہوگا کہ کیا وہ ایران کا اعتماد بحال کرنے کے لیے کوئی عملی اقدامات کر سکتا ہے یا نہیں کرتا ہے۔

اعلامیے میں ’ایران کے 40 روزہ قومی دفاع‘ کا حوالہ دیتے ہوئے حالیہ اسٹریٹجک کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ اس موقع پر ایرانی قیادت نے پاکستان کو ایک ’دوست اور برادر ملک‘ قرار دیتے ہوئے مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری پر حکومتِ پاکستان اور عوام کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

مزید پڑھیں:نیتن یاہو کا ایران پرحملے جاری رکھنے کا اعلان، عوام سڑکوں پر نکل آئے، اسرائیل ’جنگ روکو، نسل کشی بند کرو‘ کے نعروں سے گونج اٹھا

بیان کے اختتام پر 9 کروڑ ایرانی عوام کی سپریم لیڈر کی رہنمائی میں وفد کی حمایت کو سراہا گیا اور مذاکراتی ٹیم کی محنت اور استقامت کی تعریف کی گئی۔

واضح رہے کہ 21 گھنٹے تک مسلسل جاری رہنے والے یہ مذاکرات حالیہ دہائی کے طویل ترین سفارتی مقابلوں میں سے ایک ہیں۔ ایران کی جانب سے ’ماضی کی جنگوں‘ کا حوالہ دراصل ان زخموں کی طرف اشارہ ہے جو حالیہ کشیدگی اور قیادت کے نقصانات کے باعث پیدا ہوئے ہیں۔

پاکستان نے اس دوران ایک پل کا کردار ادا کیا ہے، لیکن تہران اور واشنگٹن کے درمیان موجود خلیج اتنی گہری ہے کہ اسے صرف ایک نشست میں بھرنا ناممکن نظر آتا ہے۔ ایران کی جانب سے ’قومی حقوق‘ پر سمجھوتہ نہ کرنے کا اعلان امریکا کے لیے واضح پیغام ہے کہ سفارت کاری صرف برابری کی سطح پر ہی کامیاب ہو سکتی ہے۔

Related Articles