بجلی صارفین کے لیے بُری خبرآگئی

بجلی صارفین کے لیے بُری خبرآگئی

لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے سسٹم میں بجلی کا شارٹ فال 850 میگاواٹ سے تجاوز کر گیا ہے، جس کے باعث کمپنی اپنی 2700 میگاواٹ کی طلب پوری کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔

نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیش کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے ذرائع کے حوالے سے میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بجلی کی اس شدید قلت کی بڑی وجہ بلوکی پاور پلانٹ کی اچانک بندش ہے، جو آر ایل این جی (آر ایل این جی ) گیس نہ ملنے کی وجہ سے کام چھوڑ گیا ہے۔ واضح رہے کہ بلوکی پاور پلانٹ قومی گرڈ کو 1223 میگاواٹ بجلی فراہم کرتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:موسم سرما میں گیس کی لوڈ شیڈنگ کا شیڈول جاری

شارٹ فال کے نتیجے میں لاہور کے شہری علاقوں میں 2 گھنٹے جبکہ مضافاتی اور دیہی علاقوں میں 4 سے 6 گھنٹے کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جیسے جیسے درجہ حرارت بڑھے گا اور بجلی کی طلب میں اضافہ ہوگا، لوڈشیڈنگ کا یہ دورانیہ مزید طویل ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب سوئی ناردرن ذرائع کا کہنا ہے کہ گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی گیس کا بحران بھی سر اٹھانے لگا ہے۔ پائپ لائنوں میں گیس پریشر کی کمی اور قلت کے باعث شہریوں نے متبادل کے طور پر ایل پی جی (ایل پی جی ) کا استعمال شروع کر دیا ہے، جس سے غریب اور متوسط طبقے پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔

ماہرینِ توانائی کا کہنا ہے کہ جب تک آر ایل این جی کی فراہمی بحال کر کے بلوکی جیسے بڑے پاور پلانٹس نہیں چلائے جاتے، بجلی کی صورتحال میں بہتری کے امکانات کم ہیں۔

مزید پڑھیں:لیسکو نے عیدالاضحی پر بجلی صارفین کو لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کی خوشخبری سنا دی

لاہور اور اس کے گردونواح میں بجلی کی تقسیم کا نظام اکثر ایندھن (گیس) کی فراہمی سے جڑا ہوتا ہے۔ آر ایل این جی کی درآمد میں تاخیر یا سپلائی چین میں رکاوٹ براہِ راست بلوکی جیسے جدید پاور پلانٹس کو متاثر کرتی ہے۔

اپریل کے وسط میں درجہ حرارت کا بڑھنا لوڈشیڈنگ کے آغاز کا سبب بنتا ہے، اور اس سال گیس کی بیک وقت قلت نے عوامی مشکلات کو دوچند کر دیا ہے۔ لیسکو کی جانب سے ‘غیراعلانیہ’ لوڈشیڈنگ کا مطلب یہ ہے کہ سسٹم پر بوجھ اتنا زیادہ ہے کہ شیڈول پر عمل کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔

Related Articles